حماس اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

0

شرم الشیخ میں تاریخی پیش رفت: حماس اور اسرائیل کے درمیان جامع امن معاہدہ طے پا گیا

شرم الشیخ: حماس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ غزہ کی دو سالہ تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت اسرائیلی افواج پورے غزہ پٹی سے انخلا کریں گی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور قیدیوں کے تبادلے کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔

حماس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ مذاکرات ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ امن تجویز کے تحت مصر کے شہر شرم الشیخ میں مکمل ہوئے۔ اس عمل میں قطر، ترکی اور مصر نے میزبانی اور ضامن کا کردار ادا کیا۔

حماس نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ “ہم قطر، ترکی اور مصر کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کے اقدامات کو سراہتے ہیں جن کی بدولت یہ معاہدہ ممکن ہوا۔” تحریک نے ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا پابند بنائیں تاکہ تل ابیب حکومت کسی تاخیر یا پسپائی سے گریز کرے۔

اعلامیے میں غزہ، القدس اور مغربی کنارے کے عوام کی قربانیوں اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ “ان کی مزاحمت نے صہیونی منصوبوں کو ناکام بنایا، اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔”

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تحریک کے درمیان امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط ہو گئے ہیں، جس کے تحت “تمام قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کا متفقہ علاقوں تک انخلا” جلد متوقع ہے۔

ٹرمپ نے اسے “عالمِ عرب، اسلامی دنیا، اسرائیل اور امریکہ سب کے لیے ایک عظیم دن” قرار دیا اور قطر، مصر اور ترکی کے کردار کو خصوصی طور پر سراہا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو یہ گزشتہ دو سال سے جاری خونریز جنگ کے خاتمے کی طرف سب سے اہم اور بڑی پیش رفت ثابت ہو گا، جس نے غزہ کے عوام اور بنیادی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.