پیوٹن کا ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور جنگی صورتحال کو فوری طور پر ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر اہم گفتگو ہوئی جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی صدارتی دفتر کے مطابق گفتگو کے دوران ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے خطے پر ممکنہ اثرات پر غور کیا گیا۔
صدر پوتن نے زور دیا کہ کشیدگی میں اضافہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے تمام فریقین کو تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
روسی صدر نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈی اور تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
صدر پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دی جائے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی رابطے برقرار رکھنے اور صورتحال کا مشترکہ طور پر جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔