بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ، عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے نوجوان سیاسی رہنما عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں عوام کی تاریخی شرکت دیکھنے میں آئی، جسے ملکی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
جنازہ گاہ، قریبی میدان، مرکزی شاہراہیں اور اطراف کی گلیاں انسانی سمندر کا منظر پیش کرتی رہیں۔
نمازِ جنازہ میں چیف ایڈوائزر محمد یونس، مختلف سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنما، مذہبی شخصیات، سماجی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جنازے کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ رضاکاروں کی بڑی تعداد نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مصروف رہی۔
عثمان ہادی کو ایک متحرک اور بااثر نوجوان لیڈر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ حالیہ سیاسی تحریک میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ان کے حامیوں کے مطابق عثمان ہادی عوامی حقوق، شفاف سیاست اور قومی خودمختاری کے داعی تھے۔
عثمان ہادی کو چند روز قبل نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے اہلِ خانہ اور سیاسی ساتھیوں نے اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے، جبکہ حامی حلقوں کی جانب سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پر ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ ڈھاکہ، چٹاگانگ اور دیگر شہروں میں بھارت مخالف مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران بعض مقامات پر بھارتی قونصل خانوں پر پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
مظاہروں کے باعث سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
حکومتی ترجمان کے مطابق عثمان ہادی کے قتل کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جا رہی ہیں اور واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عثمان ہادی کی ہلاکت بنگلہ دیش کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔