صدر ٹرمپ اور محمد بن سلمان کی ملاقات، امریکہ پر نوٹوں کی بارش

0

واشنگٹن: سعودی عرب نے امریکہ پر نوٹ نچھاور کر دئیے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران امریکا میں اپنی سرمایہ کاری 600 ارب ڈالر سے بڑھا کر ایک کھرب ڈالر تک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان وائٹ ہاؤس پہنچےتو صدر ٹرمپ نے خصوصی طور پر باہر آ کر ان کا خیر مقدم کیا۔
اوول آفس میں دونوں رہنماؤں کی اعلیٰ سطحی وفود کی موجودگی میں ملاقات ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنا "دیرینہ دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب امریکا کا ایک قابل بھروسہ شراکت دار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے اور سعودی عرب امریکا سے F-35 لڑاکا طیارے خریدے گا۔ ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کو F-35 کی سپلائی میں ترجیح دی جانی چاہیے۔

ملاقات کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا کہ سعودی عرب کی موجودہ 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو بڑھا کر 1 ٹریلین ڈالر تک کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے اس اعلان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی معیشت کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

تیل کی کم قیمتوں سے متعلق سوال پر سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ یہ فیصلے وقتی فائدے یا دباؤ کے تحت نہیں بلکہ حقیقی معاشی مواقع کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو مصنوعی ذہانت کے بڑے منصوبوں کے لیے وسیع کمپیوٹنگ پاور درکار ہے اور امریکا کے ساتھ ہونے والا تعاون اس ضرورت کو پورا کرے گا۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن سعودی عرب کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے وہ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے خواہشمند ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل کے دوران دو ریاستی حل کے لیے قابل قبول راستہ بھی یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

ایران کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرے گا۔
ان کے مطابق ایران بھی اس حوالے سے بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.