بنگلہ دیش میں عام انتخابات جمعرات کو ہوں گے

0

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عام انتخابات جمعرات کو ہوں گے جو ملکی سیاست میں ایک غیر معمولی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔

اس انتخابی معرکے میں اس بار توجہ کا مرکز بنگلادیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی ہیں، کیونکہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی عوامی لیگ انتخابی عمل سے باہر ہے، جس کے باعث سیاسی میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔

انتخابات سے قبل پورے ملک میں انتخابی مہم اپنے عروج پر رہی۔ بی این پی نے خود کو ایک بڑی اور منظم سیاسی قوت کے طور پر پیش کیا ہے، جو عوامی لیگ کے ووٹ بینک کا بڑا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کو معاشی بدحالی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام سے نکالنے کے لیے انہیں عوامی مینڈیٹ درکار ہے۔ بی این پی کی انتخابی مہم میں مہنگائی پر قابو پانے، جمہوری اقدار کی بحالی اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے جیسے وعدے نمایاں رہے۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی بھی اس انتخاب میں ایک مضبوط فریق کے طور پر ابھری ہے۔ جماعت نے مذہبی اور روایتی ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے میں اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کو کرپشن سے پاک اور اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کی طرف لے جانے کے لیے ان کی جماعت ہی واحد متبادل ہے۔ کئی علاقوں میں جماعتِ اسلامی کی انتخابی سرگرمیاں غیر متوقع طور پر مضبوط دکھائی دیں، جس نے مقابلے کو مزید سخت بنا دیا ہے۔

انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف سرویز میں بی این پی کو مجموعی طور پر برتری حاصل دکھائی دیتی ہے، تاہم بعض حلقوں میں جماعتِ اسلامی اور بی این پی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

شہری علاقوں اور نوجوان ووٹرز میں بی این پی کی حمایت زیادہ بتائی جا رہی ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی دیہی علاقوں اور مذہبی رجحان رکھنے والے ووٹرز میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی نشستوں پر نتیجہ آخری لمحات تک غیر یقینی رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس انتخاب میں نوجوان ووٹرز کا کردار بھی فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مہمات نے بھی ووٹرز کے رجحانات پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس سے روایتی سیاسی انداز میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بی این پی واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ملک میں ایک نئی سیاسی سمت کا تعین ہو سکتا ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی غیر معمولی کامیابی بنگلہ دیش کی اندرونی اور خارجی پالیسیوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ بی این پی کا پلڑا بظاہر بھاری دکھائی دیتا ہے، تاہم جماعتِ اسلامی بھی کسی صورت کمزور حریف نہیں اور کئی حلقوں میں سخت مقابلے کے امکانات موجود ہیں۔

انتخابات کے حتمی نتائج ہی اس سوال کا قطعی جواب دیں گے کہ بنگلہ دیش کے عوام نے اس بار کس سیاسی قوت پر اعتماد کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.