شرح سود 10.5 فیصد برقرار، افراط زر اور جی ڈی پی سے متعلق مثبت اشارے
کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرحِ سود کو دو ماہ کے لیے 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ رواں سال افراطِ زر 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ کچھ مہینوں میں یہ 7 فیصد سے اوپر بھی جا سکتی ہے۔ درآمدات میں 8 فیصد اضافے اور برآمدات میں ممکنہ 6 فیصد کمی کا خدشہ ہے، تاہم ترسیلاتِ زر میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق ملکی جی ڈی پی گروتھ 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہے گی، زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور جون تک 18 ارب ڈالر سے زائد ہو جائیں گے۔ کیش ریزرو ریکوائرمنٹ میں 100 بیسز پوائنٹس کمی کر کے اسے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔