اسلام آباد، کاروباری شخصیت عامر اعوان قتل کیس 24 گھنٹوں میں حل، بین الصوبائی گینگ گرفتار
اسلام آباد: اسلام آباد پولیس نے فارم ہاؤس میں کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل میں ملوث ملزمان کو 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں گرفتار کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ ایک انتہائی حساس اور چیلنجنگ کیس تھا جسے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے کامیابی سے حل کیا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عامر اعوان قتل کیس قومی سطح کا اہم کیس بن چکا تھا، جس کے باعث پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا امتحان تھا۔
انہوں نے بتایا کہ واردات ایسے علاقے میں ہوئی جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات موجود تھے، اس کے باوجود ملزمان نے واردات کی۔
ملزمان کی گرفتاری کے لیے 17 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جن کی سربراہی ڈی آئی جی اسلام آباد کر رہے تھے۔ تفتیش کے دوران 6 مختلف مقامات کی جیوفینسنگ کی گئی جبکہ 137 کالز کا ریکارڈ حاصل کیا گیا اور 93 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
آئی جی کے مطابق تحقیقات کا دائرہ خیبرپختونخوا تک پھیلایا گیا جہاں چارسدہ اور مردان میں چھاپے مارے گئے۔
چارسدہ سے منصور خان ڈکیت گینگ کے مرکزی ارکان کو گرفتار کیا گیا، جو "بلٹ پروف گینگ” کے نام سے مشہور ہے، جبکہ مردان سے مزید 4 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ بین الصوبائی گینگ اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مختلف وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ گینگ کے پاس بھاری اور ہلکے ہتھیار موجود تھے اور واردات کے بعد ملزمان گارڈز کے موبائل فونز بھی ساتھ لے گئے تھے تاکہ شواہد کو مٹایا جا سکے۔
مزید تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ گینگ میں دو غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ 5 رکنی گینگ مختلف گروپس کی صورت میں کارروائیاں کرتا تھا اور مختلف صوبوں کی پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ کیس کی تفتیش میں جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے بھی مدد لی گئی، جس کے باعث قلیل وقت میں ملزمان تک رسائی ممکن ہوئی۔
پولیس حکام نے اس کامیاب کارروائی کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور مزید انکشافات کی توقع ہے۔