سی پیک ایوارڈز تقریب 2026: پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی نئی جہت، نمایاں کارکردگی کا اعتراف
ضیاء الامین
اسلام آباد: وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیرِ اہتمام چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں پر کام کرنے والے نمایاں پاکستانی اور چینی عملے کے اعزاز میں سالانہ ایوارڈز تقریب 2026 کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے پیشہ ور افراد کی غیر معمولی خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال اور چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے سی پیک تقریب میں سولر ہوم سسٹمز، جدید موسمیاتی اسٹیشنز اور کلاؤڈ بیسڈ ابتدائی وارننگ سسٹم کے لیے قبولیت کے سرٹیفکیٹ پر بھی دستخط کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان ماحولیاتی اور تکنیکی تعاون کا اہم مظہر ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان کے توانائی، انفراسٹرکچر اور رابطہ کاری کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں اور ملک میں جدید معاشی ڈھانچے کی بنیاد رکھ دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کے 43 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ قومی گرڈ میں قریب 9 ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوا ہے، جس سے دیرینہ توانائی مسائل پر قابو پانے میں مدد ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں توجہ انفراسٹرکچر سے ہٹ کر صنعتی ترقی، جدت اور جامع معاشی نمو پر مرکوز ہے۔ سی پیک 2.0 کو پانچ سالہ ایکشن پلان (2025–2029) کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، جو “اُڑان پاکستان” فریم ورک سے ہم آہنگ ہے۔ اس میں خصوصی اقتصادی زونز، ڈیجیٹل سلک روڈ، قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی تحفظ، عوامی فلاح اور علاقائی رابطہ کاری جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔
چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے اپنے خطاب میں سی پیک 2.0 کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین تعاون اب زراعت، معدنیات اور سماجی ترقی جیسے نئے شعبوں تک وسعت اختیار کر رہا ہے۔

انہوں نے زرعی تجارت میں اضافے، معدنی وسائل کی برآمدات میں بہتری اور مکمل ویلیو چین کے ذریعے وسائل کو معاشی قدر میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے صحت، تعلیم اور مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جو نہ صرف عوامی فلاح پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
اس موقع پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انسانی وسائل کسی بھی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں اور سی پیک کی کامیابی اس سے وابستہ افراد کی محنت اور صلاحیت کا نتیجہ ہے۔

چائنا چیمبر آف کامرس اِن پاکستان کے چیئرمین وونگ ہوئی ہوا نے بھی ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری باہمی اعتماد اور مشترکہ اہداف کی بنیاد پر مزید مستحکم ہوگی۔
تقریب کا ایک اہم پہلو نمایاں پاکستانی اور چینی عملے کو اعزازات سے نوازنا تھا، جن کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم نے سی پیک منصوبوں کی کامیاب تکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس دوران سی پیک کی 14ویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (JCC) اجلاس کے منٹس پر بھی دستخط کیے گئے۔
تقریب میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کیک بھی کاٹا گیا، جو دونوں ممالک کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کی علامت ہے۔ آخر میں وفاقی وزیر احسن اقبال اور چینی سفیر نے مشترکہ طور پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے پاکستانی اور چینی عملے میں ایوارڈز تقسیم کیے۔