ڈھاکہ:خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان 17 سال بعد وطن واپس پہنچ گئے

0

ڈھاکہ: سابق وزیرِ اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

طارق رحمان کی واپسی کو بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑا اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی مبصرین انہیں آئندہ عام انتخابات کے بعد ملک کا ممکنہ اگلا وزیرِ اعظم قرار دے رہے ہیں۔

طارق رحمان طویل عرصے سے لندن میں مقیم تھے جہاں سے وہ بی این پی کی سیاسی قیادت اور پارٹی امور کی نگرانی کرتے رہے۔ ان کی وطن واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بنگلہ دیش میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور آنے والے عام انتخابات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

ڈھاکہ پہنچنے پر پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق طارق رحمان کی واپسی سے بی این پی کو ایک نئی سیاسی توانائی ملی ہے اور پارٹی قیادت کو امید ہے کہ وہ عوامی حمایت کو منظم کر کے انتخابات میں فیصلہ کن برتری حاصل کر سکتی ہے۔

طارق رحمان نے وطن واپسی پر اپنے بیان میں جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی، عوامی حقوق کے تحفظ اور معاشی استحکام کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بنگلہ دیش کو سیاسی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ طارق رحمان کا شمار بنگلہ دیش کی سیاست کے بااثر رہنماؤں میں ہوتا ہے اور وہ پارٹی کے اندر ایک مضبوط تنظیمی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماضی میں ان پر عائد مختلف مقدمات اور سیاسی تنازعات کے باعث وہ ملک سے باہر رہے، تاہم موجودہ حالات میں ان کی واپسی کو قانونی اور سیاسی طور پر ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

طارق رحمان کی واپسی نے نہ صرف بی این پی کے حامیوں میں جوش و خروش پیدا کیا ہے بلکہ ملکی سیاست میں نئی صف بندی اور ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کی قیاس آرائیوں کو بھی تقویت دی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کا سیاسی کردار، انتخابی مہم اور ممکنہ قیادت بنگلہ دیش کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.