جنوبی ایشیا میں ڈیجیٹل تبدیلی کے امکانات اور چیلنجز پر علاقائی مکالمہ،
اسلام آباد: جنوبی ایشیا میں عوامی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر، ڈیجیٹل ترقی کے چیلنجز اور باہمی تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کے لیے اسلام آباد میں ایک اہم علاقائی گول میز اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا موضوع تھا:
“جنوبی ایشیا اور عالمی ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر کا دور: مواقع اور چیلنجز”
یہ مکالمہ تحقیقی و مشاورتی تنظیم گلوب سائٹ اور بنگلہ دیش کی پالیسی ادارہ سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کے پالیسی سازوں، سرکاری اداروں کے نمائندگان، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ماہرین اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ شرکاء نے شرکت کی۔
اجلاس کا بنیادی مقصد ایسا ڈیجیٹل ڈھانچہ تشکیل دینے پر گفتگو تھا جو محفوظ، شفاف، کم لاگت اور عوام کی رسائی کے لیے مؤثر ہو، تاکہ ترقی کے عمل میں کوئی فرد پیچھے نہ رہ جائے۔
تقریب میں بتایا گیا کہ جنوبی ایشیا تقریباً دو ارب آبادی کا خطہ ہے اور تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم اس خطے کے ایک ارب سے زائد افراد اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مالی شمولیت، عوامی خدمات تک مساوی رسائی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ناگزیر ہو چکا ہے۔
افتتاحی خطاب میں گلوب سائٹ کی نمائندہ ماہ رُخ شاہد نے کہا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ باہمی تجربات اور کامیاب عملی نمونوں کا تبادلہ بڑھائیں تاکہ ڈیجیٹل منصوبوں پر تیز تر عملدرآمد ہو سکے۔ ان کے مطابق علاقائی تعاون ایسے نظام کو جنم دے سکتا ہے جو مواصلاتی روابط، مالی لین دین اور کاروباری سرگرمیوں کو زیادہ مضبوط بنائے۔
سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ کی سربراہ ڈاکٹر فہمیدہ خاتون نے کہا کہ عوامی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر روزگار کے مواقع، معیارِ زندگی اور حکومتی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام شفافیت بڑھاتے اور خدمات کی فراہمی کو تیز اور بااعتماد بناتے ہیں۔
اجلاس میں ڈیجیٹل شناخت، الیکٹرانک ادائیگیوں، ڈیٹا کے تبادلے اور بنیادی ڈیجیٹل ڈھانچوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے حکمرانی، مساوات، کم لاگت رسائی، عوامی آگاہی اور علاقائی بہترین طریقہ کار جیسے موضوعات کا جائزہ لیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نمائندہ انعم حا مد نے بتایا کہ ملک میں راست ادائیگی نظام کی بدولت بینکوں اور مالی اداروں میں باہمی ربط قائم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک 4 کروڑ 60 لاکھ سے زائد صارفین اس نظام سے جڑ چکے ہیں اور حکومت کی ادائیگیاں بھی اسی ذریعے منتقل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب ڈیجیٹل لین دین کو صرف عوامی سطح تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ تاجر اور کاروباری شعبے کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، جس سے ڈیجیٹل معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔
سری لنکا کی وزارتِ ڈیجیٹل معیشت کے مشیر اپول ابیسری وردھنا نے کہا کہ صرف پالیسی سازی کافی نہیں، ڈیجیٹل سہولیات کو مقامی سطح تک پہنچانا اور نجی شعبے کو شراکت دار بنانا ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیائی خطے کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل حکمت عملی، محفوظ ڈیٹا ڈھانچہ، کم لاگت ٹیکنالوجیز اور ہم آہنگ نظام ہی ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتے ہیں۔ اجلاس کو خطے میں ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل کی جانب ایک اہم پیش قدمی قرار دیا گیا۔