شی جن پنگ اور جاپانی وزیراعظم تاکائچی سانائے کی بوسان میں اہم ملاقات

0

بوسان : چینی صدر شی جن پنگ اور جاپان کی وزیراعظم تاکائچی سانائے کے درمیان جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ اے پی ای سی سربراہی اجلاس کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی، جسے دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم اور آگے بڑھانے کی ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور جاپان کے درمیان دیرپا، صحت مند اور مستحکم تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی توقعات کے بھی عین مطابق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین، جاپان کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کی سیاسی بنیادوں کو مضبوط بنانے، باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور باہمی مفاد پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ صدر شی کے مطابق، دونوں ممالک کو “نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ایک تعمیری اور مستحکم چین-جاپان تعلق” استوار کرنا چاہیے جو باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی پر مبنی ہو۔

وزیراعظم تاکائچی سانائے، جو اس سال کے اوائل میں عہدہ سنبھال چکی ہیں، نے چین کے ساتھ مکالمہ اور تعاون برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان استحکام علاقائی امن اور اقتصادی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

بوسان میں ہونے والی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اے پی ای سی اجلاس میں علاقائی سفارت کاری میں نئی سرگرمی دیکھنے میں آئی، اور دونوں رہنماؤں نے عالمی اقتصادی بحالی، سپلائی چین کے استحکام اور ماحولیاتی تعاون جیسے اہم موضوعات پر بھی بات چیت کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، شی جن پنگ اور تاکائچی سانائے کی یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ممکنہ نرمی کی علامت ہے، جو کئی برسوں سے سرحدی تنازعات اور اسٹریٹجک رقابتوں کا شکار رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.