پاک سعودی دفاعی معاہدے کی توثیق،دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نہیں چھوڑیں گے ،شہباز شریف

0

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی سٹریٹجک دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کو سعودی عرب، قطر، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اور ملائیشیاء کے سرکاری دوروں کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔

کابینہ اراکین نے دفاعی معاہدے پر پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا.

کابینہ نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے 15 ناقابل پرواز ہوائی جہازوں (8 سیسنا اور 7 فلیچر) کو تعلیمی، یادگاری یا نمائش کے مقاصد کے لیے مختلف اداروں کو عطیہ کرنے کی منظوری دی، ادارے کے زیر استعمال باقی 4 قابل پرواز بیور ہوائی جہاز ٹڈی دل کے خلاف کارروائیوں کے لیے محمکہ پلانٹ پروٹیکشن کے زیر استعمال رہیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ان ہوائی جہازوں کی نیلامی کے سابقہ اقدامات کامیاب نہیں ہو پائے تھے جس کے بعد ان ہوائی جہازوں کے حوالے سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے وزارت آبی وسائل کی سفارش پر واپڈا کے زیر انتظام اہم ڈیموں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکورٹی فورس کے قیام کے لئے "واپڈا سیکورٹی فورس ایکٹ، 2025” کی قانون سازی کی اصولی منظوری دی۔

کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ
دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمہ کریں گے، شہداء پاکستان کی عزت و وقار اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کل انہوں نے راولپنڈی میں سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، افواج پاکستان کے اعلی افسران اور جوانوں کے ساتھ لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب کی نماز جنازہ ادا کی، ضلع اورکزئی میں ان کے ساتھ پاک فوج کے 9 اور جوان بھی شہید ہوئے، شہید لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق نے بہادری اور شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی، فتنہ الخوارج کے 19 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا اس کے بعد خود بھی اور ان کے باقی 10 ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ جمعرات کی صبح ایک اور شہید میجر سبطین حیدر کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی،پاک فوج کے اس عظیم جانباز نے فتنہ الخوارج کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، ہم نے ان کے والدین اور بہن بھائیوں سے ملاقات کی ان کا جذبہ لائق تحسین تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دوست نما دشمن دہشت گردوں کو تحفظ دے رہے ہیں،خوارج ہمسایہ ملک سے آ کر دہشت گردی کرتےہیں، آگ اور پانی کا کھیل اب مزید نہیں چل سکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان نے ہندوستان کو شکست فاش دی ہے اس سے دنیا میں پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے جو اس سے پہلے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا،اس پر پاکستان کے 24 کروڑ عوام، افواج پاکستان، سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری کابینہ کو مبارک ہو۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،آزاد فلسطینی ریاست کا قیام پہلے دن سے ہی ہمارا موقف ہے،77 سال سے پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں پاک بھارت جنگ بندی میں ان کے کردار کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے کردار کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ غزہ میں جنگ بندی کے لیے بھی صدر ٹرمپ سے کردار ادا کرنے کو کہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو متنبہ کر دیا ہےاور کہا ہے کہ مغربی کنارہ کبھی اسرائیل کا حصہ نہیں بنے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا انتہائی دیرینہ، قابل قدر، قابل اعتبار اور ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دینے والا دوست ملک ہے،اس کے تعاون کو کبھی نہیں بھلا سکتے،پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صدیوں پر محیط ہیں،دورہ ملائشیا کے دوران پرتپاک استقبال دونوں ممالک کی مضبوط دوستی کی علامت تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا رواں ماہ ترسیلات زر 3.2 ارب ڈالر رہی ہیں اور یہ گزشتہ سال کی نسبت 11.3 فیصد بڑھ گئیں،بلوم برگ نے پاکستان کو ترکیہ کے بعددوسری ابھرتی ہوئی معیشت قرار دیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر میں معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی کاوشیں قابل ستائشیں،کشمیری بہن بھائی ہمارے سروں کا تاج ہیں ان کے حقیقی مسائل پہلے بھی حل کیے ہیں آئندہ بھی بہتری لائیں گے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی گئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.