جانوروں کی قربانی ایک کروڑ سے گھٹ کر 65 لاکھ پر آ گئی

0

لاہور: ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عیدالاضحیٰ پر قربانی کے رجحان کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں جہاں پاکستان بھر میں تقریباً ایک کروڑ جانور قربان کیے گئے تھے، وہیں مسلسل کمی کے بعد رواں سال یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 65 لاکھ رہ گئی ہے۔

ماہرِ معاشیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شدت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بہتر آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے بھی قربانی کے جانور خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی قوتِ خرید کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں خریداروں کا رش تو دیکھنے میں آیا، تاہم جانوروں کی بلند قیمتوں نے بڑی تعداد میں شہریوں کو خریداری سے روک دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر سمیت مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں جانور منڈیوں میں لائے گئے، لیکن فروخت توقعات کے مطابق نہ ہو سکی۔
منڈیوں میں بکرے کی قیمت ایک لاکھ روپے سے شروع ہو کر دو لاکھ روپے یا اس سے زائد تک رہی، جبکہ دنبے ایک سے تین لاکھ روپے میں فروخت ہوتے رہے۔

گائے کی قیمت دو لاکھ روپے تک اور بیل کی قیمت تین لاکھ سے لے کر دس لاکھ روپے تک دیکھی گئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جس کے باعث قربانی کرنا یا جانور خریدنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

اجتماعی قربانی کے حصے کی قیمت بھی 32 ہزار سے 40 ہزار روپے تک پہنچ گئی، جس کے باعث بہت سے افراد نے انفرادی قربانی کے بجائے اجتماعی قربانی یا قربانی سے گریز کو ترجیح دی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.