بنوں کے عوام اور امن کمیٹیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف متحد

0

بنوں: میریان کے علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی کامیاب کارروائی کے بعد بنوں کے عوام اور مقامی امن کمیٹیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہو گئی ہیں۔
حکام اور علاقے کے بزرگ اسے دہشت گردی کے خلاف عوامی عزم میں ایک فیصلہ کن تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق میریان میں یہ آپریشن کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک نیٹ ورکس — جنہیں ریاست فتنہ الخوارج کہتی ہے — کے دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر شروع کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں ایک افغان کمانڈر شامل تھا، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ تنظیم کے لیے جنگجوؤں کو تربیت دیتا تھا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ کارروائی کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔

حکام کے مطابق دہشت گردوں کو پہلے سے اطلاع مل چکی تھی اور انہوں نے آگے بڑھنے والی پارٹی پر گھات لگانے کی کوشش کی، مگر پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی تیاری کے سامنے یہ گھات ناکام ہو گئی۔

انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے بنوں پولیس کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور کہا کہ سازش کی ناکامی اور ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کی بروقت برآمدگی و ناکارہ بنانے سے شہریوں کو ممکنہ سانحے سے بچا لیا گیا۔

اہلِ علاقہ کے مطابق اس کارروائی کو جس چیز نے ممتاز کیا وہ صرف اسلحے کی طاقت نہیں بلکہ اس کے پیچھے کھڑی شراکت داری تھی۔ مقامی امن کمیٹیوں کے ارکان — جن میں قبائلی بزرگ، دکاندار اور عام شہری شامل ہیں — پولیس کے شانہ بشانہ کام کرتے رہے، اطلاعات فراہم کیں اور دہشت گردوں کو آبادی میں چھپنے سے روکا۔

ایک بزرگ کمیٹی رکن نے کہا، "یہ ہمارا شہر ہے، اور ہم اسے باہر والوں کے لیے میدانِ جنگ نہیں بننے دیں گے۔” یہی جذبہ ان دنوں بنوں کے بازاروں میں ہر طرف سنائی دے رہا ہے۔

شہریوں نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا حوالہ دیا، جو سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کے قافلوں اور ناکوں پر حملوں کا بارہا نشانہ بنتی رہی ہیں۔

عوام کا فورسز کے ساتھ بڑھتا ہوا یہ اتحاد دہشت گردوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو ہمیشہ خوف اور خاموشی کے سہارے کام کرتے رہے ہیں۔ اہلِ علاقہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں، اور زور دیا کہ ایک اطلاع پورے محلے کو بچا سکتی ہے۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ضلع کے علاقے جانی خیل میں کارروائیاں جاری ہیں، جہاں مزید دہشت گرد ہلاک اور ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔ حکام نے دہرایا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ مہم اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس عفریت کا خطے سے مکمل خاتمہ نہ ہو جائے۔
بنوں کے عوام کے لیے میریان سے اٹھنے والا پیغام واضح ہے: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک شہری کے الفاظ میں، عوام کو اب پولیس کا ساتھ دینا ہو گا تاکہ دہشت گرد کو بنوں سے نکالا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.