ٹرمپ کو اتحادیوں سے جواب ہو گیا،امریکی صدر ناراض
تہران/دبئی/واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں متعدد ممالک براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس تنازع کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے اہم شہروں تہران، شیراز اور تبریز کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا، جبکہ جنوبی لبنان میں محدود زمینی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
اس کے جواب میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خلیجی خطہ بھی اس تنازع سے محفوظ نہ رہ سکا۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے باعث ایندھن کے ذخیرے میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے فضائی آپریشن متاثر اور سفری نظام درہم برہم ہو گیا۔
ابوظہبی میں میزائل حملے کے نتیجے میں ایک شہری جان کی بازی ہار گیا، جبکہ فجیرہ کے تیل بردار صنعتی علاقے میں بھی ڈرون حملوں کے بعد آگ لگ گئی۔
ادنوک نے بڑھتے خطرات کے پیش نظر فجیرہ میں اپنی تنصیبات پر تیل کی لوڈنگ کا عمل عارضی طور پر روک دیا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے رات کے دوران درجنوں ڈرونز کو تباہ کر دیا، جبکہ عراق اور کویت نے بھی اپنے علاقوں میں حملوں کی نئی اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔ اسی دوران پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کمپنیوں اور ان کے ملازمین کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے فوری طور پر خطہ چھوڑنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔ نیٹو اور اس کے اہم اتحادی ممالک—برطانیہ، جرمنی، جاپان، اٹلی، پولینڈ، اسپین، یونان، آسٹریلیا، سویڈن، ڈنمارک اور ہالینڈ—نے آبنائے ہرمز میں بحری مشن کے لیے امریکی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تعاون نہ ملا تو اس کے نیٹو کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکا کا محدود تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، لیکن یہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں اور فریقین کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم تاحال جنگ بندی پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ انہوں نے ان علاقائی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو امریکی افواج کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صورتحال تیزی سے ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے، اور اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔