فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف،
نیویارک: نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے (اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل) کے فلسطین سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فوری اور مستقل جنگ بندی ناگزیر ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق انہوں نے مغربی کنارے میں کنٹرول کے دائرہ کار میں توسیع، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں، غیرقانونی آبادکاری اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ تمام اقدامات فوری طور پر روکے جائیں اور واپس لیے جائیں۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت قائم لائحہ عمل مستقل جنگ بندی کے قیام، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور Gaza Strip (غزہ کی پٹی) کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مؤثر پیش رفت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور فلسطینی عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل ایک واضح مدت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔