سیف الاسلام قذافی کی بنی ولید میں تدفین، قتل کی تحقیقات میں اہم انکشافات

0

طرابلس:لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو جمعے کے روز سخت سکیورٹی میں جنوبی مغربی شہر بنی ولید میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

تدفین میں شرکت کو محدود رکھتے ہوئے صرف خاندان کے افراد اور قذاذفہ و ورفلہ قبائل کے چند منتخب عمائدین کو اجازت دی گئی۔

بنی ولید کے سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق شہر میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ تدفین کے موقع پر سیف الاسلام کی تصاویر، نعرے لگانے یا کسی بھی قسم کے عوامی ردِعمل کے اظہار پر پابندی عائد رہی۔ شہر میں داخلے اور جنازہ گاہ کے اطراف سخت نگرانی کی گئی۔

سیف الاسلام قذافی کی میت دارالحکومت طرابلس سے تقریباً 180 کلومیٹر دور واقع بنی ولید سخت سکیورٹی حصار میں منتقل کی گئی۔ واضح رہے کہ سیف الاسلام کو منگل کے روز زنتان شہر میں ان کے گھر پر ہونے والے ایک حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے ذرائع نے عرب میڈیا العربیہ اور الحدث کو بتایا ہے کہ سیف الاسلام کو مجموعی طور پر 19 گولیاں ماری گئیں، جن میں ایک گولی ان کے سر میں لگی۔ ذرائع کے مطابق گھر میں نصب سکیورٹی کیمرے فعال تھے اور ان کا کنکشن زنتان سے باہر ایک موبائل فون کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا تھا۔

مزید انکشاف یہ سامنے آیا کہ حملے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ قبل ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی گارڈز موقع سے ہٹا لیے گئے تھے۔
سیف الاسلام کی سیاسی ٹیم کے سربراہ عبداللہ عثمان نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ انہیں لیبیائی عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اس قتل میں ملوث عناصر اور پس پردہ محرکات تک پہنچے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقامی عدلیہ دباؤ کا شکار ہوئی تو عالمی سطح پر تحقیقات کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے، تاہم سیف الاسلام اپنی زندگی میں ہمیشہ عالمی عدالت کے بجائے لیبیائی عدالتی نظام پر یقین رکھتے تھے۔

عبداللہ عثمان کے مطابق 2021 کے انتخابات کو سبوتاژ کرنے والے عناصر سیف الاسلام کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت سے خائف تھے اور انہیں سیاسی منظرنامے سے ہٹانا چاہتے تھے۔

دوسری جانب سیف الاسلام کی قانونی ٹیم نے زور دیا ہے کہ عدالتی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی بھی فرد پر الزام عائد کرنا بے بنیاد ہے۔ ٹیم نے کرنل العجمی کو واقعے سے جوڑنے کی کوششوں کو بھی سختی سے مسترد کر دیا۔

وزیر داخلہ عماد الطرابلسی نے پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ مکمل تعاون اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
واضح رہے کہ بنی ولید، جس کی آبادی تقریباً ایک لاکھ ہے، ورفلہ قبیلے کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں آج بھی معمر قذافی کے دور کی یادیں زندہ ہیں۔

سیف الاسلام کے قتل کے بعد معمر قذافی کی سات اولاد میں سے اب صرف چار — محمد، الساعدی، ہنیبال اور بیٹی عائشہ — اپنی والدہ کے ہمراہ زندہ ہیں، جو اس وقت لیبیا سے باہر مقیم ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.