تحفظِ اطفال سے متعلق آگہی میں مذہبی رہنماؤں کا کردار نہایت مؤثر ہوگا: سیکرٹری مذہبی امور

0

اسلام آباد: وفاقی سیکرٹری مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر سید عطا الرحمن نے کہا ہے کہ تحفظِ اطفال سے متعلق آگہی کی کوششوں میں مذہبی رہنماؤں کی شمولیت سے خاطر خواہ اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی مذہبی طبقے کے فعال کردار کے بغیر ممکن نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ مذہبی امور میں یونیسف اور اسلامک ریلیف پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ بین المذاہب رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں مختلف مکاتبِ فکر اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی و سماجی رہنماؤں، ماہرینِ اطفال اور سرکاری نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر مفتی راغب حسین نعیمی، کنٹری ہیڈ اسلامک ریلیف پاکستان آصف شیرازی، علامہ عارف حسین واحدی، مفتی ضمیر احمد ساجد، علامہ سجاد حسین نقوی، مولانا ہارون الرشید بالا کوٹی، پیر عظمت سلطان، حافظ محمد اقبال نعیمی، کرسٹوفر شرف، پنڈت راکیش چند، ہما عارف، افشاں جاوید، صاحبزادہ علی سلطان، ڈاکٹر غلام دستگیر، ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر مذہبی امور محمد خلیق اور عائشہ اعجاز شریک ہوئے۔

سیکرٹری مذہبی امور نے تحفظِ اطفال فورم کے تحت پیش کی گئی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرتی اصلاح کے لیے باہمی مکالمہ، مشاورت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، اور مذہبی رہنما عوام میں شعور بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ زینب کیس کے بعد بچوں پر جسمانی، جنسی اور ذہنی تشدد کے انسداد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے متعدد سفارشات اور قانون سازی سے متعلق تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں معاشرتی سطح پر بچوں کی اجتماعی نگرانی کا مؤثر نظام موجود تھا جسے جدید تقاضوں کے مطابق بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں بچوں کی تعلیم و تربیت، تحفظ، جذباتی و ذہنی نشوونما کے لیے والدین اور اساتذہ کی آگاہی، بچوں سے مشقت اور کم عمری کی شادیوں کے محرکات پر سنجیدہ مکالمے اور عملی اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.