نیپرا کی منظوری کے بعد کیپکو دوبارہ قومی گرڈ سے منسلک
اسلام آباد: کوٹ ادو پاور کمپنی لمیٹڈ (کیپکو) دس ہفتوں سے زائد تعطل کے بعد دوبارہ قومی گرڈ سے منسلک ہوگئی ہے۔ یکم اکتوبر 2025 سے جاری معطلی ٹیرف سے متعلق تکنیکی معاملات کے حل کے بعد ختم کی گئی، جس کے ساتھ ہی کمپنی کے 495 میگاواٹ گیس/آر ایل این جی اور 478 میگاواٹ ایل ایس ایف او پلانٹس فوری طور پر فعال ہو گئے ہیں۔
نیپرا نے 9 دسمبر کو جاری اپنے فیصلے میں کیپکو کے ٹیرف کی مدت میں عبوری توسیع کی منظوری دی، جس سے کمپنی کو آپریشن جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔
فیصلہ ISMO، نیشنل گرڈ کمپنی، میپکو، سی پی پی اے-جی اور وزارت توانائی کی تفصیلی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ متعلقہ اداروں نے خبردار کیا تھا کہ کیپکو کی بندش نظام کے استحکام، ملتان اور مظفرگڑھ کے گرڈ اسٹیشنز پر کنجیشن مینجمنٹ، اور میپکو کے 13 گرڈز کو قابل اعتماد سپلائی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
نیپرا کے مطابق موجودہ ٹرانسمیشن رکاوٹوں کے پیش نظر کیپکو کا چلتے رہنا ضروری ہے، اسی لیے اسے IGCEP 2025-35 کے مسودے میں بھی شامل رکھا گیا ہے۔
فیصلے کے تحت کیپکو حتمی IGCEP منظوری یا زیادہ سے زیادہ تین سال تک موجودہ منظورشدہ ٹیرف شرائط کے مطابق کام جاری رکھ سکے گی۔
اتھارٹی نے کمپنی کی جانب سے مانگی گئی متعدد ٹیرف وضاحتوں کا جائزہ لیتے ہوئے variable O&M components، LSFO انوینٹری کی لاگت اور دیگر تکنیکی نکات پر پالیسی واضح کر دی ہے۔
سوئچ یارڈ چارجز اور ورکنگ کیپیٹل کاسٹ پر نیپرا نے اپنا سابقہ مؤقف برقرار رکھا ہے۔ ساتھ ہی اصل ٹیرف ڈیٹرمنیشن میں ویری ایبل O&M سے متعلق ایک ٹائپنگ غلطی بھی درست کر دی گئی ہے، اور نئی جدول اب بلاک وائز چارجز کی درست عکاسی کرتی ہے۔
کیپکو کے دوبارہ فعال ہونے سے جنوبی پنجاب میں بجلی کی سپلائی مزید مستحکم ہوگی، جب کہ ایک اہم بلیک اسٹارٹ صلاحیت رکھنے والے پلانٹ کی بحالی قومی پاور سسٹم کے لیے بھی مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔