پاک–چین تیانشان فورم: پاکستان خطے کی معاشی کنیکٹیویٹی کا مرکز بن رہا ہے، احسن اقبال
بیجنگ: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان جغرافیائی اہمیت اور ترقیاتی اقدامات کے باعث خطے میں ایک ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک حب کا کردار ادا کر رہا ہے جو چین، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور عالمی منڈیوں کو ایک مضبوط معاشی زنجیر میں پرو رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات بیجنگ میں منعقدہ تیانشان فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے وسطی ایشیا اقتصادی تعاون (CAREC) کے آغاز کے موقع پر خطے میں ہم آہنگ معاشی ترقی اور رابطہ کاری کے لیے چار جامع فریم ورک پیش کیے۔
پروفیسر احسن اقبال کے مطابق تجویز کردہ فریم ورک خطے کی مستقبل بنیادوں پر ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں، جن میں شامل ہیں:
کنیکٹیویٹی و اکنامک انٹیگریشن کے لیے جوائنٹ ٹاسک فورس — ریلوے، بندرگاہوں اور ڈیجیٹل تجارتی نظام کا ایک مربوط نیٹ ورک
ریجنل اسپیشل اکنامک زونز — صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع
یوریشین انرجی و گرین ٹرانزیشن پارٹنرشپ — قابل تجدید توانائی، گرین انفراسٹرکچر اور بجلی کے تبادلے میں تعاون
ڈیجیٹل سلک روڈ اور فیوچر اسکلز الائنس — نوجوانوں کی ہنرمندی، ٹیکنالوجیکل جدت اور علم پر مبنی معیشت کے تقاضے
انہوں نے مزید کہا کہ چین–پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) خطے میں ترقی کی نئی بنیاد رکھ چکی ہے، جس کے نتیجے میں:
قومی گرڈ میں 8,000 میگاواٹ بجلی شامل ہوئی
1,000 کلومیٹر سے زائد جدید ہائی ویز اور شاہراہیں تعمیر ہوئیں
گوادر پورٹ فعال ہوا
اسپیشل اکنامک زونز کی بنیاد رکھی گئی
ڈیجیٹل رابطہ کاری میں نمایاں پیش رفت ہوئی
وفاقی وزیر نے کہا کہ CAREC فریم ورک 11 ممالک کو چھ بڑی معاشی راہداریوں اور جدید سرحدی نظام کے ذریعے دنیا کے سب سے بڑے علاقائی کنیکٹیویٹی نیٹ ورک میں جوڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی کی ترقی جغرافیہ نہیں بلکہ مضبوط معاشی حکمت عملی، علاقائی تعاون اور دور اندیش وژن سے طے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ کاری اور اجتماعی ترقی کو ترجیح دے کر پاکستان اور خطے کے شراکت دار ایک مستحکم، پائیدار اور خوشحال معاشی مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔