چین میں پاکستانی سفیر کا شوگوانگ زرعی ایکسپو کا دورہ

0

اسلام آباد: چین میں پاکستانی سفیر کا شوگوانگ زرعی ایکسپو کا دورہ، دوطرفہ زرعی تعاون کو فروغ دینے پر زور
چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے  19 اور 20  اپریل کو صوبہ شیڈونگ کے شہر شوگوانگ کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے 27ویں چین (شوگوانگ) انٹرنیشنل ویجیٹیبل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایکسپو میں شرکت کی۔

شوگوانگ، جو “سبزیوں کا شہر” کے نام سے معروف ہے، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور اسمارٹ کاشتکاری کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے۔


اس سال ایکسپو میں پاکستان کو مہمانِ خصوصی ملک کا درجہ دیا گیا، جو پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ چینی حکام کی جانب سے سفیر خلیل ہاشمی کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ میئر ژاؤ تیان باؤ نے انہیں شوگوانگ کی جدید زرعی صنعت، مربوط ویلیو چینز اور اسمارٹ گرین ہاؤس ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا۔

سفیر خلیل ہاشمی نے اس موقع پر پاکستان کی زرعی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ کاشتکاری کی اشد ضرورت ہے۔

دونوں جانب سے اسمارٹ گرین ہاؤس منصوبوں، مشترکہ سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔


دورے کے دوران سفیر نے شیڈونگ لیسینٹے ایگریکلچرل ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ اور ماڈرن ایگریکلچرل ہائی ٹیک ڈیمانسٹریشن بیس کا بھی دورہ کیا، جہاں جدید گرین ہاؤس سسٹمز اور موسمیاتی لحاظ سے مؤثر کاشتکاری کے عملی نمونے پیش کیے گئے۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ اور سال بھر متعدد فصلوں کی کاشت ممکن بنائی جا رہی ہے۔

20 اپریل کو سفیر نے ایکسپو میں پاکستان نیشنل پویلین کا افتتاح کیا، جسے انہوں نے پاک-چین دیرینہ دوستی کی علامت قرار دیتے ہوئے زرعی تجارت، کاروباری روابط اور عوامی سطح کے تبادلوں کے فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارم کہا۔

پویلین میں پاکستان کی نمایاں مصنوعات جیسے گلابی ہمالیائی نمک، باسمتی چاول، چلغوزے، بسکٹ، دستکاری اور قیمتی پتھروں سے بنی آرائشی اشیاء پیش کی گئیں، جو ملک کی زرعی اور ثقافتی وراثت کی عکاس ہیں۔


  1. افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں زرعی سرمایہ کاری، خصوصاً گرین ہاؤس ٹیکنالوجی، پانی کی بچت والی آبپاشی، بیجوں کی تیاری، بعد از برداشت پراسیسنگ اور کولڈ چین لاجسٹکس کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ شوگوانگ کا کامیاب ماڈل پاکستان کی زرعی جدیدکاری کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

پاکستان کے سفیر نے صوبہ شیڈونگ کے ساتھ جاری مشترکہ منصوبوں، تحقیقی تعاون اور تربیتی پروگرامز کا بھی ذکر کیا، جبکہ پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں، خصوصی اقتصادی زونز اور اسٹریٹجک مارکیٹ رسائی کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش قرار دیا۔


بعد ازاں سفیر نے زرعی سہولیات کے تعاون سے متعلق سمپوزیم میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان اور شوگوانگ کے درمیان مہارت کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستانی کسانوں کو جدید زرعی تجربات منتقل کرنے، مشترکہ سیمینارز کے انعقاد اور ماہرین و کسانوں کے تبادلہ پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور پائیدار زرعی ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.