بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم میں سزائے موت
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی خصوصی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف تاریخی مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں سزائے موت سمیت تاحیات قید اور عمر قید کی سزائیں سنادی ہیں۔ تین رکنی بینچ نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے پانچوں الزامات میں مجرم قرار دیا۔
شیخ حسینہ پر الزام تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال طلبہ کے ملک گیر احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کو طاقت کے وحشیانہ استعمال کے احکامات دیے، جس کے نتیجے میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین غیر مسلح تھے، اس کے باوجود ان پر مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
شیخ حسینہ، جو اس وقت 78 سال کی ہیں، ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہیں۔ اگست 2024 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے وہ بھارت میں مقیم ہیں اور غیر حاضری میں ان کا ٹرائل جاری رہا۔
خصوصی ٹریبونل نے فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ مقدمے میں 80 سے زائد گواہوں نے شہادت دی، جن میں 54 افراد ایسے تھے جو خونریز مظاہروں میں زندہ بچ گئے تھے۔ مقدمے میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی مجموعی تعداد 10 ہزار صفحات سے زیادہ تھی۔
450 صفحات پر مشتمل فیصلہ ملک کے تمام بڑے ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر کیا گیا تاکہ عوام عدالتی کارروائی سے مکمل طور پر آگاہ رہ سکیں۔
شیخ حسینہ نے مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی منظوری دی۔
6 طلبہ کو زندہ جلانے کے کیس میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
دیگر جرائم پر انہیں تاحیات قید اور عمر قید کی سزائیں دی گئیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وہ بقیہ زندگی جیل میں گزاریں گی۔
عدالت نے اسی مقدمے میں سابق وزیرِ داخلہ کو بھی سزائے موت کا حکم دیا ہے۔
ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
فیصلے سے قبل بنگلہ دیش بھر میں سیکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔ عدالت کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، جبکہ پولیس نے ممکنہ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے جگہ جگہ ناکے قائم کیے۔
شیخ حسینہ کا موقف ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی محرکات پر مبنی ہیں، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی طاقت کا استعمال مظاہرین کے خلاف "انتہائی سنگین اور ناقابلِ معافی” تھا۔
شیخ حسینہ طویل عرصہ بنگلہ دیش کی بااثر ترین سیاسی شخصیت رہی ہیں، اور ان کے خلاف دیا جانے والا فیصلہ ملک کی تاریخ کے سب سے اہم عدالتی فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔