جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ دے دیا

0

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے اپنا 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی استعفیٰ صدرِ مملکت کو ارسال کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم آئینِ پاکستان اور عدلیہ کی خودمختاری پر ایک سنگین حملہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ “یہ ترمیم سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرتی ہے، عدلیہ کو حکومت کے ماتحت لاتی ہے اور آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگاتی ہے۔”
ان کے بقول، “بطور جج، میں ایک ایسی ترمیم کا حصہ نہیں بن سکتا جو عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرے۔”

دوسری جانب جسٹس اطہر من اللّٰہ نے بھی اپنا استعفیٰ صدرِ پاکستان کو ارسال کر دیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ 11 برسوں سے عدلیہ سے وابستہ رہے — پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج، پھر چیف جسٹس، اور بعدازاں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے کہا کہ “میں نے ہر حلف کے دوران ایک ہی وعدہ کیا — آئینِ پاکستان سے وفاداری کا۔ میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ صرف آئین سے تھا۔”

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے انکشاف کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ متن پر انہوں نے اُس وقت کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھ کر اپنے آئینی خدشات سے آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ “جو اندیشے اُس وقت ظاہر کیے تھے، وہ اب افسوسناک طور پر حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔”

Leave A Reply

Your email address will not be published.