جسٹس امین الدین خان آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر

0

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے جسٹس امین الدین خان کی بطور چیف جسٹس آئینی عدالت تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے کے ساتھ جسٹس امین الدین خان ملکی تاریخ میں آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس بن گئے ہیں۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری آئین کے آرٹیکل 175-A(3) اور 175-C کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، جب کہ عہدہ اس وقت فعال ہوگا جب وہ باقاعدہ حلف اٹھائی گے۔

آئینی عدالت کا قیام حالیہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد آئینی نوعیت کے مقدمات کو سپریم کورٹ سے الگ ایک خصوصی فورم کے ذریعے نمٹانا ہے۔
جسٹس امین الدین خان اُن آئینی بنچ کے سربراہ بھی تھے جو ان ترامیم کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

جسٹس امین الدین خان کا عدالتی کیریئر

پیدائش: یکم دسمبر 1960، ملتان

تعلیم: فلسفہ میں بیچلر (1981)، ایل ایل بی (1984)

وکالت کا آغاز: 1985

لاہور ہائی کورٹ میں وکالت: 1987

سپریم کورٹ کے وکیل: 2001

جج لاہور ہائی کورٹ تقرری: 2011

سپریم کورٹ کے جج: 2019

آئینی بنچ کے سربراہ: 2024–2025

جسٹس امین الدین خان مختلف اہم فیصلوں کا حصہ رہے اور سپریم کورٹ میں اپنے متوازن اور مضبوط قانونی مؤقف کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

نئی تشکیل شدہ آئینی عدالت ملک کے چند اہم ترین امور پر فیصلہ سازی کی مجاز ہوگی، جن میں شامل ہیں۔

وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافی معاملات

بنیادی حقوق سے متعلق اہم درخواستی

آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہونے کی توقع ہے۔ مزید ججز کی تقرری اور عدالت کی مکمل فعالیت کا عمل اگلے چند دنوں میں مکمل ہوگا۔

ملکی سیاسی و قانونی حلقوں میں اس تقرری کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور اسے عدلیہ کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئینی عدالت کے فعال ہونے سے پیچیدہ آئینی معاملات اب زیادہ تیزی سے نمٹ سکیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.