سیف اللہ ابڑو اور احمد خان آئینی ترمیم پردوبارہ ووٹ دے دیا

0

اسلام آباد:سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے سینیٹ میں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے دوران دوبارہ ووٹ دیا۔

پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے منحرف سینیٹرز سیف اللہ ابڑو اور احمد خان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی، کیونکہ ان کے استعفے تاحال منظور نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے خلاف آرٹیکل 63 کے تحت کوئی ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے دوران ماحول خاصا گرم رہا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے منحرف سینیٹرز سیف اللہ ابڑو اور احمد خان ووٹ ڈالنے کے اہل قرار پائے۔ دونوں سینیٹرز کے استعفے ابھی تک منظور نہیں ہوئے جبکہ ان کے خلاف کوئی باضابطہ ریفرنس بھی دائر نہیں کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر وضاحت کی کہ کسی رکن کا زبانی استعفیٰ آئینی طور پر قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال کسی رکنِ سینیٹ نے انہیں تحریری طور پر استعفیٰ نہیں بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں استعفیٰ دینے کا واضح طریقہ کار موجود ہے، اور رکن تحریری استعفیٰ دینے کے بعد بھی اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایک موقع پر زبانی استعفیٰ دیا تھا لیکن بعد میں عملاً مستعفی نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ارکان جذبات میں بیانات دے دیتے ہیں، تاہم آئینی طور پر صرف تحریری اور مستند طریقے سے دیا گیا استعفیٰ ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ اگر کسی جماعت کو اپنے ارکان کی فلور کراسنگ پر اعتراض ہو تو وہ الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیج سکتی ہے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

ووٹنگ کے دوران ایوان کا ماحول خاصا کشیدہ رہا۔ پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے چیئرمین ڈائس کے سامنے احتجاجاً دھرنا دیا اور آئینی ترمیم کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اپوزیشن ارکان نے "آئینی ترمیم نامنظور” کے نعرے لگاتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ بعد ازاں چیئرمین سینیٹ کی مداخلت پر اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.