سینیٹ سے بھی 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور
اسلام آباد : سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔ ترامیم کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔
جمعرات کو چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم میں قومی اسمبلی سے منظور شدہ ترامیم ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ تحریک کی منظوری کے بعد وزیر قانون نے ترمیمی مسودہ ایوان میں پیش کیا، جس کی چیئرمین سینیٹ نے شق وار منظوری لی۔
شق وار منظوری کے بعد تقسیم کے ذریعے ووٹنگ کا عمل ہوا۔ اس دوران ایوان میں پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں اور سینیٹ ہال کے داخلی و خارجی دروازے بند کر دیے گئے۔ ووٹنگ مکمل ہونے پر چیئرمین سینیٹ نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 64 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 4 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جس کے بعد 27ویں آئینی ترمیم میں نئی ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی گئیں۔
ترمیمی بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شورشرابہ اور نعرے بازی کی گئی، جس پر چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن ارکان کو نعرے بازی سے باز رہنے کی ہدایت کی۔
سینیٹ سے منظور کی گئی 27ویں آئینی ترمیم میں مجموعی طور پر چھ اضافی ترامیم شامل کی گئی ہیں۔
ترمیم کے تحت آرٹیکل 6 کی شق 2-اے میں تبدیلی کر کے عدالتِ عظمیٰ اور عدالتِ عالیہ کے ساتھ وفاقی آئینی عدالت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 10 سمیت دیگر پانچ آئینی ترامیم میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو شامل کیا گیا ہے۔
ترمیم کے مطابق چیف جسٹس آئینی عدالت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سے سنیئر چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔
مزید یہ کہ صدرِ مملکت، چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل سے حلف لینے کے مجاز بھی چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔
27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے چیف جسٹس کا تقرر تین سال کے لیے کیا جائے گا، جبکہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے۔
یہ ترامیم ملک کے عدالتی و آئینی ढांचे میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔