ایپک اجلاس کا اختتام ،سب کیلئے فائدہ مند تجارت پر اتفاق
گیونگ جو :جنوبی کوریا کے شہر گیونگ جو میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) کا دو روزہ اجلاس اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں رکن ممالک کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ خطے کے ممالک کو باہمی تعاون، شفاف تجارت اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہوگا۔ رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت (AI)، آبادی میں کمی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے "ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن” کے قیام کی تجویز پیش کی، تاکہ AI کے نظم و نسق کے لیے عالمی سطح پر مربوط نظام قائم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مصنوعی ذہانت پوری دنیا کے عوام کے مفاد میں استعمال ہونی چاہیے، نہ کہ چند ممالک کے مفاد تک محدود رہے۔”
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ بین الاقوامی سطح پر AI کو ریگولیٹ کرنے کی کوششوں کی مخالفت کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، رہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جسے خطے کے لیے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اجلاس میں شرکت کے بعد بغیر کسی پریس کانفرنس کے براہِ راست واشنگٹن روانہ ہوگئے۔
اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں کہا گیا کہ “ایشیائی پیسیفک خطے میں ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تجارت اور سرمایہ کاری سب کے لیے مساوی فائدے کا باعث نہ بنے۔”