سی پیک کی پائیدار ترقی کے حصول میں ڈیٹا ریسورسز کا اہم کردار
بیجنگ :چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ڈیٹا ریسورسز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے کردار کو کلیدی قرار دیا گیا ہے۔
بیجنگ میں منعقدہ موسمیاتی تبدیلی اور آفات کے خطرات سے متعلق دوسرے بین الاقوامی تعلیمی سیمینار میں ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ درست، بروقت اور شفاف ڈیٹا ،مستقبل کی منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور سی پیک کے سماجی و ماحولیاتی اثرات کے تجزیے کے لیے ناگزیر ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف جیوگرافک سائنسز اینڈ نیچرل ریسورس ریسرچ کے ماہرین نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ڈیٹا پر مبنی ماڈلز کے ذریعے نہ صرف موسمیاتی خطرات کی پیشگی نشاندہی ممکن ہے بلکہ توانائی، زراعت، انفراسٹرکچر اور شہری منصوبہ بندی کے شعبوں میں وسائل کا مؤثر استعمال بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستانی وفد کے شرکاء نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ’’ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی‘‘ اور ’’ڈیٹا گورننس‘‘ مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک مشترکہ سی پیک ڈیٹا ریسورس سنٹر کے قیام پر غور کریں تاکہ موسمیاتی، ماحولیاتی اور اقتصادی ڈیٹا کو یکجا کر کے پالیسی فیصلوں میں سائنسی بنیاد فراہم کی جا سکے۔
ماہرین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) کی مدد سے سی پیک کے منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات، کاربن فٹ پرنٹ اور مقامی کمیونٹیز کے سماجی فوائد کی بہتر مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ڈیٹا شیئرنگ، معیاری تجزیہ اور مشترکہ ریسرچ پلیٹ فارمز کے ذریعے چین اور پاکستان کے درمیان سائنس۔
پالیسی انٹیگریشن کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ’’ڈیٹا ہی ترقی کی نئی کرنسی ہے‘‘ اور اسی کی بنیاد پر سی پیک نہ صرف اقتصادی راہداری بلکہ علمی و سائنسی تعاون کی مثال بن سکتا ہے۔