چین کا سی پیک فیز ٹو میں تعاون بڑھانے کا اعلان، بڑے منصوبوں پر تیز پیش رفت
اسلام آباد: چین نے سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان میں صنعتی ڈھانچے کی مضبوطی، زرعی جدیدکاری اور بڑے کنیکٹیویٹی منصوبوں میں تعاون مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی پالیسی ڈائیلاگ کے دوران ہوا، جہاں چینی حکام نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی خود انحصاری، ایکسپورٹس میں اضافے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
چین نے پاکستان میں جدید صنعتوں کے قیام کے لیے دو بڑے منصوبوں پر تیز پیش رفت کی تصدیق کی:
ہائیئر کا 400 ملین ڈالر کا ہوم اپلائنس انڈسٹریل پارک، سالانہ ایک کروڑ یونٹس پیداواری صلاحیت کے ساتھ، جو جدید الیکٹرانکس اور ہوم اپلائنس مینوفیکچرنگ کا نیا دور ثابت ہوگا اور ہزاروں براہِ راست و بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرے گا۔
چیلنج گروپ کا 150 ملین ڈالر کا ٹیکسٹائل انڈسٹریل پارک، جس کا سالانہ برآمدی ہدف 400 ملین ڈالر رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنانے میں معاون ہوگا۔
زرعی شعبہ بھی سی پیک فیز ٹو کا اہم حصہ قرار پایا ہے۔ چین نے پاکستان کی مزید زرعی مصنوعات کو کنٹریکٹ فارمنگ کے تحت اپنی مارکیٹ میں شامل کرنے، نئی اجناس کے لیے مارکیٹ رسائی بہتر بنانے اور ویلیو چین لنکیجز مضبوط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے برآمدات میں تنوع، زرمبادلہ میں استحکام اور جدید تحقیق و ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھے گا۔
کنیکٹیویٹی کے بڑے منصوبوں پر بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چین نے فوری کارروائی کے لیے جن اسٹریٹجک منصوبوں پر اتفاق کیا ہے ان میں شامل ہیں:
قراقرم ہائی وے (رائیکوٹ–تھاکوٹ) کی ری الائنمنٹ
خنجراب–سوست بارڈر پورٹ کی جدیدکاری
گوادر پورٹ کی جامع اپ گریڈیشن
چینی حکام کے مطابق گوادر کو مکمل فعال علاقائی لاجسٹک حب بنانا سی پیک فیز ٹو کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے بندرگاہی انفراسٹرکچر، کارگو ہینڈلنگ اور سپلائی چین سسٹمز کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سی پیک کے تحت اب تک:
25.93 ارب ڈالر کی براہِ راست چینی سرمایہ کاری
8 ہزار میگاواٹ بجلی کی قومی گرڈ میں شمولیت
510 کلومیٹر موٹرویز کی تعمیر
886 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائنز کی بچھائی مکمل ہو چکی ہے
مزید برآں، گوادر میں چین پاکستان فرینڈشپ ہسپتال اور 2,000 ٹن یومیہ صلاحیت رکھنے والا ڈیسلنیشن پلانٹ عوام کو صحت اور صاف پانی کی اہم سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
چینی حکام نے واضح کیا کہ سی پیک کو پاکستان کی قومی ترجیحات کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے، اور آئندہ مرحلے میں تعاون صنعت، زراعت، معدنیات، گرین ڈویلپمنٹ، لوجسٹکس اور علاقائی کنیکٹیویٹی جیسے شعبوں میں مزید گہرا کیا جائے گا، جو پاکستان کی معاشی جدیدکاری اور علاقائی تجارت میں اہم کردار ادا کرے گا۔