سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے نیا دور ثابت ہوگا، احسن اقبال
اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی ترقی، صنعتی فروغ اور برآمدات میں پائیدار اضافے کا نیا دور ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جے سی سی اجلاس نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو نئی مضبوط بنیاد فراہم کی ہے اور فیز ٹو میں عوامی فلاح و روزگار کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں 14ویں جے سی سی اجلاس کے بعد پہلے سی پیک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سی پیک فیز ٹو کے منصوبوں پر پیش رفت اور مستقبل کے اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک فیز ٹو کے تحت نئے منصوبوں کی تیاری اور خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں سہولتوں کی فراہمی میں تیزی لائیں تاکہ ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شروع کیے جائیں جو عوامی زندگی پر دیرپا اور مثبت اثرات مرتب کریں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 14واں جے سی سی اجلاس پاکستان اور چین کے تعلقات میں نئے سفر کی بنیاد ثابت ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر پندرہواں جے سی سی اجلاس پاکستان میں منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو میں زراعت، صنعت، آئی ٹی، اور عوامی روابط کے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں نجی شعبے کے کردار کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان کے "فائیو ایز” (5Es) کو چین کی "فائیو کاریڈورز” کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ ترقی کا تسلسل اور باہمی اشتراک کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے منصوبے روزگار، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، جب کہ فیز ٹو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اور پائیدار اضافے کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کے تعاون سے گوادر میں قائم ڈی سیلینیشن پلانٹ نے پانی کی فراہمی کی صورتحال میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے سی پیک فیز ون کامیابی سے مکمل کیا گیا، ویسے ہی فیز ٹو کو بھی اسی جذبے سے کامیاب بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ معاشی روزگار کاریڈور کے تحت پاکستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے چینی ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان اور چین کے اقتصادی تھنک ٹینکس کے درمیان ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم اویو) پر بھی دستخط ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر کے تعاون سے پاکستان کو پالیسی سازی اور برآمدات کے فروغ میں اہم مدد حاصل ہوگی، جو ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔