سی پیک دو برادر ممالک کے باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کا سفر

0

اسلام آباد (ضیاالامین) — چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ دو برادر ممالک کے باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کا ایسا سفر بن چکا ہے جو پاکستان کے معاشی نقشے کو نئی سمت دے رہا ہے۔ 2013 میں آغاز پانے والا یہ منصوبہ اب اپنی پہلی دہائی مکمل کر چکا ہے اور توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کا سبب بنا ہے۔

سی پیک، جو "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، اُس وقت شروع ہوا جب پاکستان شدید توانائی بحران، کمزور انفراسٹرکچر اور معاشی جمود کا شکار تھا۔ تاہم، محض دس برسوں میں یہ تصور حقیقت بن گیا — ایک ایسا منصوبہ جس نے پاکستان کے توانائی، رابطہ کاری اور صنعتی ڈھانچے کو نئی جہت دی اور چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنایا۔

توانائی بحران سے صنعتی احیاء تک
سی پیک کے پہلے مرحلے کے دوران توانائی کے 17 بڑے منصوبے مکمل ہوئے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 8,900 میگاواٹ سے زائد ہے۔ تقریباً 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے کوئلے کی کانوں، ہائیڈرو پاور اور شمسی منصوبوں نے پاکستان کے توانائی بحران کو ختم کیا۔ تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار نے توانائی میں خودکفالت کی بنیاد رکھی اور صنعتوں کو دوبارہ متحرک کیا۔

جدید شاہراہیں، ترقی کی نئی راہیں
نقل و حمل کے شعبے میں 6.7 ارب ڈالر کے آٹھ بڑے منصوبے مکمل ہوئے جن کے تحت 888 کلومیٹر طویل موٹرویز اور شاہراہیں تعمیر کی گئیں جبکہ 853 کلومیٹر مزید زیرِ تعمیر ہیں۔ حویلیاں تا تھاکوٹ سیکشن سمیت یہ سڑکیں ملک کے مختلف حصوں کو جوڑ رہی ہیں، سفر کے اوقات کم کر رہی ہیں اور تجارتی رسائی میں اضافہ کر رہی ہیں۔

گوادر: ماہی گیر بستی سے عالمی تجارتی دروازے تک
گوادر میں چینی تعاون سے تعمیر ہونے والے جدید منصوبے — ہسپتال، ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، ڈی سیلی نیشن پلانٹ، سولر سسٹمز اور نیا بین الاقوامی ایئرپورٹ — بلوچستان کے جنوبی ساحل کو ترقی کا نیا مرکز بنا رہے ہیں۔ گوادر اب خطے کے لیے تجارتی اور سمندری رابطوں کا نیا محور بن رہا ہے۔

سی پیک فیز ٹو: صنعت، روزگار اور اختراع کا دور
پہلے مرحلے کے بعد اب سی پیک فیز ٹو میں صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ، زراعت کی جدید کاری اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں ٹیکس رعایتیں، جدید سہولیات اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے پاکستان کو مسابقتی سرمایہ کاری کی منزل بنایا جا رہا ہے۔

زراعت میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت پر مبنی کھیتی باڑی اور چین کے سنکیانگ ماڈل سے اشتراک کے ذریعے پاکستان اپنی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔ بیف، مرچ، تل اور چمڑے کی برآمدات اس تعاون کی ابتدائی جھلک ہیں۔

ڈیجیٹل مستقبل اور نجی شعبے کی شمولیت
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ فائبر آپٹک نیٹ ورک، ای۔گورننس، ای۔کامرس اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں پاک۔چین اشتراک نوجوان نسل کے لیے روزگار اور جدت کے نئے دروازے کھول رہا ہے۔

حالیہ بیجنگ بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس میں دونوں ممالک کی 800 سے زائد کمپنیوں کی شرکت اور 8.5 ارب ڈالر کے معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سی پیک اب سرکاری منصوبوں سے بڑھ کر نجی سرمایہ کاری کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

پائیدار اور مساوی ترقی کی راہداری
سی پیک کی کامیابی کا اصل ہدف صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ عوامی خوشحالی ہے۔ اس کے ثمرات ہر صوبے، ہر ضلع اور ہر طبقے تک پہنچانے کے لیے حکومت نے سکیورٹی، شمولیت اور ماحول دوست ترقی کے جامع اقدامات کیے ہیں۔

سی پیک کا پہلا عشرہ پاکستان کو توانائی، سڑکوں اور بندرگاہوں کا جال فراہم کر چکا ہے، جبکہ اگلا عشرہ نئی صنعتوں، ٹیکنالوجی، برآمدات اور روزگار کے مواقع سے پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یقین، تعاون اور ترقی کا سفر جاری ہے۔
پاکستان اور چین کے اس اشتراک کا اگلا مرحلہ صرف اقتصادی ترقی نہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی، علاقائی رابطے اور عالمی مسابقت کی طرف ایک بڑا قدم ہے — ایک ایسا قدم جو سی پیک کو "کنکریٹ کی راہداری” سے بڑھا کر "امید اور خوشحالی کی راہداری” بنا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.