پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیم، سیاحت، حلال سرٹیفیکیشن اور انسداد بدعنوانی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے

0

پتراجایا: پاکستان اور ملائیشیا نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے چھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدے پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف کے ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران پردانا پُترا کمپلیکس میں ہونے والی تقریب میں طے پائے۔

تقریب میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم، داتو سری انور ابراہیم اور محمد شہباز شریف نے شرکت کی۔ معاہدوں پر دستخط دوطرفہ ملاقات اور وفود کی سطح کے مذاکرات کے بعد کیے گئے۔

چھ معاہدوں میں تعلیم، حلال سرٹیفیکیشن، سیاحت، انسدادِ بدعنوانی، سفارتی تربیت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے فروغ سے متعلق تعاون شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق، سفارتکاروں کی تربیت کے میدان میں تعاون کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف ڈپلومیسی اینڈ فارن ریلیشنز (IDFR) اور فارین سروس اکیڈمی آف پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے دستاویزات کا تبادلہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ملائیشیا کے وزیرِ خارجہ حاجی محمد بن حاجی حسن نے کیا۔

اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدے پر پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور ملائیشیا کے وزیرِ اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر زیمبری عبدالقادر نے دستخط کیے۔

سیاحت کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر ملائیشیا کے وزیرِ سیاحت تیونگ کنگ سنگ اور پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے دستخط کیے۔

حلال سرٹیفیکیشن کے شعبے میں تعاون کے لیے ایم او یو پر وزیرِ اعظم کے مذہبی امور کے محکمے کے وزیر ڈاکٹر حاجی محمّد نائم بن حاجی مختار اور پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال خان نے دستخط کیے۔

انسدادِ بدعنوانی کے میدان میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن کے چیف کمشنر اعظم بن باقی اور پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے نائب چیئرمین سہیل ناصر نے دستخط کیے۔

چھٹا معاہدہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ سے متعلق تھا، جس کی دستاویزات اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) پاکستان اور ایس ایم ای کارپوریشن ملائیشیا کے درمیان رضال بن داتو نین اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی نے تبادلہ کیں۔

دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو دونوں ممالک کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے اہم قرار دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.