چین اقتصادی تعاون نئے دور میں داخل،سی پیک فیز ٹو کے لیے جامع وژن پیش

0

بیجنگ: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے بیجنگ میں چین–پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی 14ویں مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کے اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے سی پیک فیز ٹو کے لیے ایک نیا جامع اور عوامی مرکزیت پر مبنی وژن پیش کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین محض شراکت دار نہیں بلکہ “آہنی بھائی” ہیں، جو اعتماد، قربانی اور مشترکہ تقدیر کے رشتے میں بندھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں، جو کسی بھی جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ یا حکومتوں کی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوتے اور عوام کے دلوں میں جُڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی تاریخی عالمی پہل کاریوں – بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI)، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (GDI)، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو (GSI) اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو (GCI) – کو دنیا میں امن، ترقی اور جامعیت کی نئی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے یہ نظریاتی نہیں بلکہ عملی حقائق ہیں جن کی سب سے بڑی مثال سی پیک ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ 2015 سے قبل سی پیک محض کاغذ پر ایک تصور تھا، مگر وزیر اعظم محمد نواز شریف کی وژنری قیادت میں یہ ایک 46 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں پر مبنی پورٹ فولیو میں ڈھل گیا، جس نے پاکستان کی معیشت کے اہم ترین شعبوں کو بدل ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے آغاز سے اب تک 14 جے سی سی اجلاس ہوئے اور ان میں سے 11 کو شریک چیئرمین کے طور پر چلانے کا اعزاز انہیں حاصل ہوا ہے۔ یہ تسلسل دونوں ممالک کے عزم، شراکت داری اور باہمی اعتماد کا عکاس ہے۔

وزیر نے سی پیک فیز ون کی کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور کہا کہ توانائی کے شعبے میں 17 بڑے منصوبوں کے ذریعے تقریباً 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 8000 میگاواٹ سے زائد بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوئی، جس سے بجلی کے شدید بحران کا خاتمہ ہوا۔ تھر کے کوئلے کے ذخائر کو بروئے کار لایا گیا اور متنوع توانائی مکس میں ہائیڈرو پاور اور قابل تجدید ذرائع شامل کیے گئے۔ انفراسٹرکچر کے میدان میں 888 کلومیٹر جدید شاہراہیں مکمل ہوئیں جنہوں نے پاکستان کے مختلف خطوں کو ایک ہی معاشی زون میں جوڑ دیا۔ انہوں نے ایم ایل-1 کی جدید کاری کو ریلوے کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے ٹرانسپورٹ نظام کی کایا پلٹ دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر جو کبھی ایک چھوٹا سا ماہی گیر قصبہ تھا، آج پاکستان کا میری ٹائم گیٹ وے بن چکا ہے۔ چینی تعاون سے گوادر میں نیا ایئرپورٹ، ہسپتال، ووکیشنل سینٹر، ڈیسالینیشن پلانٹ اور سولر سسٹم قائم ہوئے، اور اب وقت ہے کہ گوادر کو سنٹرل ایشیا اور خلیجی ممالک کے لیے ایک علاقائی لاجسٹک حب کے طور پر مارکیٹ کیا جائے۔

آگے بڑھتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ فیز ٹو کو سی پیک کے پہلے مرحلے کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا تاکہ اعلیٰ معیار کی، جامع اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب اگلا مرحلہ “نوجوان محور ہوں گے، عوام قیادت کریں گے، اور برآمدات معیشت کو آگے بڑھائیں گی” کے اصول پر مبنی ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کی 60 فیصد نوجوان آبادی کو ترقی کے مرکز میں رکھا جائے، جس کے لئے اگلی دہائی میں چین کی بہترین جامعات میں مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ اور ابھرتی ہوئی سائنسی شعبوں میں 10,000 پی ایچ ڈی اسکالرشپس دی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز، یوتھ انویشن سینٹرز اور چینی اداروں میں انٹرن شپس بھی تجویز کی گئیں تاکہ پاکستانی نوجوان جدید ٹیکنالوجیز اور گرین انڈسٹری میں قائدانہ کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کا نیا مرحلہ عوام پر مرکوز ہوگا۔ چین کے کامیاب غربت مٹاؤ ماڈل کو پاکستان کے ہر صوبے کے غریب ترین ضلع میں آزمایا جائے گا اور دیہی و شہری ربط کو ای-کامرس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فروغ دیا جائے گا تاکہ کسان، مزدور، خواتین اور چھوٹے کاروباری افراد براہِ راست منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے برآمدات کو ترقی کا اصل انجن قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کی سالانہ درآمدات 2 ٹریلین ڈالر سے زائد ہیں، لیکن پاکستان کی برآمدات صرف 3 بلین ڈالر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو وہی مارکیٹ رسائی ملنی چاہیے جو آسیان ممالک کو حاصل ہے۔ اس مقصد کے لئے کراچی اور اسلام آباد میں دو سرکاری سطح پر خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) قائم کیے جائیں گے، جہاں ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکلز اور برقی گاڑیوں کی صنعتوں کو منتقل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ایک پاکستان–چین انڈسٹریل ریلوکیشن فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوں اور براہِ راست سرمایہ کاری میں تیزی لائی جا سکے۔

انہوں نے سی پیک فیز ٹو کے پانچ نئے کوریڈورز – گروتھ کوریڈور، انویشن کوریڈور، گرین کوریڈور، لائیولی ہُڈ کوریڈور، اور علاقائی روابط کوریڈور – کے لئے تفصیلی لائحہ عمل پیش کیا۔ اس میں پاکستان–چین ڈیجیٹل سلک روڈ پروگرام، مشترکہ AI اور کوانٹم کمپیوٹنگ لیبارٹریز، مستقبل کی مہارتوں کے پروگرامز، قابل تجدید توانائی کی تیاری، ماحولیاتی حکمت عملی، زرعی اصلاحات، اور علاقائی کنیکٹیویٹی منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان کو سی پیک کا گیٹ وے قرار دیا اور وہاں 300 میگاواٹ سولر منصوبے کی تجویز دی تاکہ روزانہ 18–20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو اور مقامی معیشت ترقی کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب سی پیک کو صرف حکومت سے حکومت (G2G) تعلق تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کاروبار سے کاروبار (B2B) شراکت داری کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حالیہ پاکستان–چین انویسٹمنٹ کانفرنس میں 800 کمپنیوں کے درمیان 8.5 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے ہوئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نجی شعبہ سی پیک 2.0 کا نیا محرک ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سی پیک منصوبوں اور چینی عملے کی حفاظت و سلامتی کو سب سے بڑی ترجیح دیتا ہے، کیونکہ امن و استحکام اس شراکت داری کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سی پیک فیز ٹو کو صرف بجلی گھروں اور سڑکوں کا منصوبہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ امید، جدت، مواقع اور مشترکہ خوشحالی کا کوریڈور ہوگا، جس میں نوجوان معمار ہوں گے، عوام اسٹیک ہولڈر ہوں گے، اور برآمدات ترقی کی اصل محرک ہوں گی۔”

جے سی سی کا اجلاس دونوں ممالک کے متعلقہ وزراء، لائن منسٹریز کے اعلیٰ حکام اور شعبہ جاتی ماہرین پر مشتمل ہے اور یہ دونوں ممالک کے وزراء کی سربراہی میں منعقد ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ 14واں اجلاس تاریخی فیصلے کرے گا جو سی پیک فیز 2.0 کو ایک عوامی، نوجوانوں پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز شراکت داری کے طور پر نئی سمت دے گا اور پاکستان–چین تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.