سی پیک کی 14ویں مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس شروع

0

بیجنگ: چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی 14ویں مشترکہ تعاون کمیٹی ( جے سی سی) کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

جے سی سی اجلاس دونوں ممالک کے وزراء، لائن منسٹریز کے حکام اور شعبہ جاتی ماہرین پر مشتمل ہے۔

اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان اور چین کے وزراء منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی حسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں، اعتماد اور مشترکہ تقدیر میں بندھے ہیں،سی پیک فیز ٹو عوام اور نوجوانوں پر مبنی ترقی کا نیا دور ہوگا،14ویں جے سی سی اجلاس میں پاک چین تعاون کے نئے باب کا آغاز ہے۔

احسن اقبال کو 14 جے سی سی اجلاسوں میں سے 11 بار شریک چیئرمین ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ کے اقدامات دنیا کو منصفانہ اور جامع بنا رہے ہیں،سی پیک فیز ون میں 8000 میگاواٹ بجلی، 888 کلومیٹر شاہراہیں اور گوادر کی ترقی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر ماہی گیر قصبے سے پاکستان کا میری ٹائم گیٹ وے بن چکا ہے،ایم ایل-1 کی جدید کاری ریلوے کے نظام کو نئی جان دے گی۔پاکستانی نوجوانوں کے لئے 10,000 پی ایچ ڈی سکالرشپس کی تجویز ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے انوویشن سینٹرز اور چینی اداروں میں انٹرن شپس سے تجربے اور سیکھنے کے نئے مواقع ملیں گے،غریب اضلاع میں غربت مٹانے کا چینی ماڈل سے استفادہ کیا جائے گا۔

احسن اقبال نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات کو چین کی منڈیوں تک آسیان ممالک جیسی رسائی دی جائے، کراچی اور اسلام آباد میں ایکسپورٹ پر مبنی خصوصی اقتصادی زونز قائم کرنے کی تجویز ہے،سی پیک فیز ٹو کے ہر کوریڈور کو برآمدات کے اہداف سے جوڑا جائے گا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان–چین ڈیجیٹل سلک روڈ سے 5G، فائبر اور ڈیٹا سینٹرز کا قیام ہوگا،سی پیک کے تحت مشترکہ AI اور کوانٹم لیبارٹریز قائم ہوں گی،پاکستان 2030 تک 60 فیصد صاف توانائی حاصل کرے گا،زرعی اصلاحات اور الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے فیز ٹو کا حصہ بنانے کے خواہشمند ہیں، چاغی سے گوادر تک مائننگ کوریڈور ترقی کا نیا راستہ بنے گا،خنجراب، طورخم اور گوادر میں بارڈر مارکیٹس سے تجارت میں اضافہ ہوگا،

احسن اقبال نے کہ گلگت بلتستان میں 300 میگاواٹ سولر منصوبہ، روزانہ 18–20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا،سی پیک اب حکومت سے حکومت نہیں، کاروبار سے کاروبار تعلقات پر مبنی ہوگا،پاکستان سی پیک منصوبوں اور چینی عملے کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

سی پیک کے پانچ کوریڈور میں گروتھ، انوویشن، گرین، روزگار اور علاقائی روابط شامل ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.