قومی اسمبلی،صحافیوں کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس گیلری سے واک آؤٹ
اسلام آباد: پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (پی آر اے) نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ملک بھر کے مختلف ٹی وی چینلز اور میڈیا ہاؤسز میں صحافیوں اور دیگر ملازمین کی جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔
احتجاج کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومتی وفد کو ہدایت کی کہ وہ پی آر اے کے نمائندگان سے فوری مذاکرات کریں اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں۔

اس مقصد کے لیے تشکیل دیے گئے حکومتی وفد میں وزیر مملکت بیرسٹر عقیل، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری اور منزہ حسن شامل تھیں، جنہوں نے پی آر اے کے وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پی آر اے کے نمائندگان نے میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل، جبری برطرفیوں، واجبات کی عدم ادائیگی اور تنخواہوں میں تاخیر سے متعلق اپنے مطالبات تفصیل سے پیش کیے۔

پی آر اے نے اپنے مطالبات میں مؤقف اختیار کیا کہ ملک کے مختلف میڈیا اداروں میں جبری برطرفیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، خصوصاً آج نیوز اور ابتک نیوز سمیت دیگر اداروں میں ملازمین کو نکالا جا رہا ہے جبکہ مزید برطرفیوں کا خدشہ بھی موجود ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
![]()
ایسوسی ایشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ عرصے کے دوران برطرف کیے گئے صحافیوں اور ملازمین کو تاحال واجبات ادا نہیں کیے گئے، لہٰذا تمام متاثرہ افراد کو فوری طور پر بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
مزید برآں، متعدد میڈیا ہاؤسز میں کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں، جو کہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ حکومت کی جانب سے اشتہارات کی مد میں میڈیا اداروں کو بھاری رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔

پی آر اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا مالکان کے ساتھ اس معاملے پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں، پاکستان ریلویز کی جانب سے صحافیوں کو دی جانے والی سفری مراعات میں حالیہ کمی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ان سہولیات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
پی آر اے نے خبردار کیا کہ اگر ان مطالبات پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک کو مزید تیز اور وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
