کم اہم منصوبے بند کرنے کی ہدایت، وزیراعظم کا معاشی دباؤ کم کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کا اعلان
اسلام آباد:ملک کو درپیش معاشی دباؤ کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاق اور صوبوں کو کم اہم ترقیاتی منصوبے فوری طور پر روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچنے والے وسائل عام آدمی کو ریلیف دینے پر خرچ کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، اس لیے قومی سطح پر کفایت شعاری، اتحاد اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی جبکہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔
اجلاس میں اسحاق ڈار، سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی قیادت سمیت بلاول بھٹو زرداری شریک ہوئے، جہاں موجودہ صورتحال اور اس کے معاشی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جنگ بندی کیلئے سفارتی سطح پر سرگرم ہے اور اس ضمن میں اسحاق ڈار مختلف ممالک سے رابطے کر رہے ہیں جبکہ سید عاصم منیر بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اب تک 129 ارب روپے کا مالی بوجھ برداشت کر چکی ہے جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔
کابینہ نے دو ماہ کی تنخواہیں نہ لینے، ایندھن کے استعمال میں نمایاں کمی اور سرکاری اخراجات کم کرنے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زرعی شعبے کو ہر صورت تحفظ دیا جائے، خصوصاً گندم کی کٹائی اور آئندہ فصلوں کیلئے ڈیزل اور پٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو فعال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
آخر میں شہباز شریف نے کہا کہ قومی اتحاد، کفایت شعاری اور بروقت فیصلوں کے ذریعے ہی ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالا جا سکتا