آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، 1.2 ارب ڈالر ملنے کی راہ ہموار
ضیاء الامین
واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان توسیعی مالی سہولت کے تیسرے اور ماحولیاتی و پائیداری سہولت کے دوسرے جائزے پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد ملک کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر حاصل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، جس کے بعد پاکستان کو توسیعی مالی سہولت کے تحت 1 ارب ڈالر جبکہ ماحولیاتی سہولت کے تحت 210 ملین ڈالر جاری کیے جائیں گے، جس سے دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی رقم 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے وفد، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا نے کی، نے 25 فروری سے 2 مارچ تک کراچی اور اسلام آباد میں مذاکرات کیے، جن کے بعد آن لائن بات چیت بھی جاری رہی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے پروگرام کے تحت مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھائی، جس کے نتیجے میں معیشت میں استحکام آیا، کاروباری اعتماد بحال ہوا اور مالی سال 2025 کے بعد معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آئی۔ مہنگائی اور جاری کھاتوں کا خسارہ قابو میں رہا جبکہ بیرونی ذخائر میں بھی بہتری آئی۔
تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مالی حالات کی سختی پاکستان کی معیشت پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور اخراجات میں کنٹرول کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مالی سال 2026 میں مجموعی قومی پیداوار کا 1.6 فیصد بنیادی سرپلس حاصل کرنے اور مالی سال 2027 میں اسے 2 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے ایف بی آر کی کارکردگی میں بہتری، ڈیجیٹل نظام کا فروغ اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ نئے ٹیکس پالیسی دفتر کے ذریعے درمیانی مدت کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

سماجی تحفظ کے شعبے میں (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) کو مزید مؤثر بنانے، مستحق افراد کی تعداد بڑھانے اور مہنگائی کے مطابق امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ صحت اور تعلیم پر اخراجات میں اضافے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔
مانیٹری پالیسی کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان مہنگائی کو ہدف کے اندر رکھنے کے لیے سخت پالیسی جاری رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر شرح سود میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے تحت گردشی قرضے کے
خاتمے، بروقت نرخوں میں رد و بدل، بجلی کے نظام میں بہتری اور قابل تجدید توانائی کے فروغ پر زور دیا گیا ہے، جبکہ سبسڈیز کو محدود رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ پاکستان ساختی اصلاحات، نجکاری، گورننس میں بہتری اور نجی شعبے کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بھی اہم اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستانی حکام، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے مذاکرات کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔