کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات وزیراعظم کو پیش، باضابطہ اعلان ( کل )ہو گا

0

لاہور: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر معاشی استحکام کے لیے کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات تیار کرلی گئی ہیں، جن کی بنیاد پر حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کل کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر توانائی سردار اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر ماحولیات ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، بالخصوص توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پیشگی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں اور حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کو ہر ممکن استحکام فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے اور جیسے ہی موجودہ مشکل مرحلہ گزرے گا اور معیشت مزید مستحکم ہوگی، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔


وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ وہ وسائل کے موثر استعمال اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنا ہوگی۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کفایت شعاری اور بچت سے متعلق ہدایات صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہیں ہوں گی تاکہ ملکی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے اور کفایت شعاری کا بوجھ معاشرے کے تمام طبقات کو منصفانہ طور پر برداشت کرنا چاہیے۔ انہوں نے مراعات یافتہ اور اشرافیہ طبقات پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے مثال قائم کریں۔

اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی متعدد تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل ہیں۔

اس کے علاوہ توانائی کے دانشمندانہ استعمال اور ایندھن کے محتاط استعمال پر بھی زور دیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارت آئی ٹی سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے موثر استعمال کے لیے طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کا نظام فراہم کرے گی تاکہ متعلقہ ادارے بروقت فیصلے کر سکیں۔

چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بھی عالمی کشیدگی کے تناظر میں صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال اور انتظامی تیاریوں کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.