وزیراعظم کی زیر صدارت کیش لیس اکانومی اجلاس، راست کے ذریعے 1.6 ٹریلین ادائیگیوں کا انکشاف
اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں کیش لیس اکانومی کے فروغ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیرِاعظم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے تنخواہوں، پنشنز اور وینڈرز کو ادائیگیوں کو راست (RAAST) کے ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو سراہا اور معاشی ٹیم سمیت اسٹیٹ بینک کی کاوشوں کی پزیرائی کی۔
بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک راست کے ذریعے مجموعی طور پر 1.6 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، جس پر وزیرِاعظم نے وزارتِ خزانہ کی ٹیم کی ستائش کی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ رمضان ریلیف پیکج کے تحت اب تک 71 فیصد مستحق افراد تک امدادی رقوم پہنچائی جا چکی ہیں۔ وزیرِاعظم نے اس پیش رفت پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی ٹیم کی تعریف کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس رمضان کے 12ویں دن تک صرف 24 فیصد مستحقین تک رقوم پہنچ سکی تھیں، جبکہ رواں برس وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایات پر بروقت اقدامات کے باعث یہ شرح 71 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد 127 ملین سے بڑھ چکی ہے، جو ڈیجیٹل معیشت کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری ادارے شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری کیے جانے والے بلز پر لازمی طور پر کیو آر (QR) کوڈ فراہم کریں تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس میں وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ اداروں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی اور ڈیجیٹل پیمنٹس ایکوسسٹم کے ڈیش بورڈ کے ذریعے اہداف سے آگاہ کیا۔
وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے مقررہ اہداف کو طے شدہ مدت میں ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، صوبائی چیف سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔