صدر زرداری اورمحمد بن راشد کی ملاقات، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق
دبئی: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے اعلیٰ سطحی روابط کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی تناظر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیرِ اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم سے زعبیل پیلس میں ملاقات کی، جس میں اقتصادی تعاون کے فروغ اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری نے شیخ محمد بن راشد المکتوم کو دبئی کے حکمران کے طور پر دو دہائیوں پر محیط کامیاب قیادت مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور دبئی کی سیاحت، مالیات اور جدید ٹیکنالوجی کے عالمی سطح پر نمایاں ترقی کو سراہا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دبئی کے ترقیاتی ماڈل سے استفادہ کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا، بالخصوص بندرگاہوں، لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
صدرِ مملکت نے پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات، سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور نجکاری کے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، لاجسٹکس، غذائی تحفظ اور ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں شراکت داری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے شیخ محمد بن راشد المکتوم کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔
دونوں رہنماؤں نے پاک۔یو اے ای برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور دوطرفہ روابط میں ہونے والی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اس موقع پر صدرِ یو اے ای شیخ محمد بن زاید النہیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی روابط کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں متحدہ عرب امارات کی مسلسل حمایت کو سراہا اور یو اے ای میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کے فروغ میں کلیدی قرار دیا۔
ملاقات کے موقع پر خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات سید محسن نقوی اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے۔