مولانا فضل الرحمن ایسے نوجوانوں کی اجتماعی شادیاں کرائیں جو بالغ ہو گئے ہیں ،حافظ حمداللہ
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ جو قانون قرآن و سنت کے منافی ہو، وہ اسے کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمد اللہ نے کہا کہ وہ دوسری شادی کے خواہش مند نہیں اور ایک ہی شادی ان کے لیے کافی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر غصہ آ گیا تو وہ قانون توڑتے ہوئے 16 سالہ لڑکی سے شادی بھی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو مشورہ دیا کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جائے، جہاں ان نوجوانوں کی شادیاں کرائی جائیں جو شرعی طور پر بالغ ہو چکے ہوں، چاہے ان کی عمریں 18 سال سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔
حافظ حمد اللہ نے ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2025 پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین کے پیچھے مخصوص طبقہ سرگرم ہے، جبکہ پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کے منافی قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن، سنت اور آئین سے انحراف کرنے والوں پر آئین کے آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔