تحریک انصاف کی جانب سے بات چیت کے لئے عملی طور پر کسی نے رابطہ نہیں کیا، فضل الرحمن
چکوال: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مجھ سے بات چیت محض بیان بازی تک محدود ہے، اب تک پی ٹی آئی کی طرف سے کسی نے عملی طور پر رابطہ نہیں کیا۔
چکوال میں مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اقلیت ملک پر حکومت کر رہی ہے جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبے بنانے کی تجویز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے بنانے کے بعد ان کا انتظام کیسے چلایا جائے گا، اس پر کسی نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کی ہم نے مخالفت کی تھی اور اس کے ممکنہ نقصانات سے بھی آگاہ کیا تھا، مگر طاقت کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے، جن کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔
آئینی ترامیم پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئین ایک میثاقِ ملی ہے، 26ویں ترمیم مفاہمت کے ساتھ اسمبلی میں پیش کی گئی جبکہ 27ویں ترمیم اتفاق رائے کے بغیر دو تہائی اکثریت سے منظور کروائی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ غیر اسلامی قوانین کے خلاف 22 تاریخ کو مختلف علماء اکٹھے ہو رہے ہیں جبکہ 22 دسمبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی ہے۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صرف بیانات دیے گئے ہیں، عملی رابطہ کسی نے نہیں کیا۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہ وہ سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہیں اور نہ ہی ملاقاتوں پر پابندی کے۔