سڈنی کی بونڈائی بیچ پر فائرنگ، ہلاکتیں 16 ہو گئیں، واقعہ دہشت گردی قرار

0

سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی مشہور بونڈائی بیچ پر یہودیوں کے مذہبی تہوار ہنوکا کی تقریب کے دوران ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں ایک حملہ آور سمیت 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کی شام مقامی وقت کے مطابق 6 بج کر 45 منٹ پر دو مسلح افراد نے سیمی آٹو میٹک ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔ اس وقت ساحل پر ایک ہزار سے زائد افراد موجود تھے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور موقع پر ہلاک جبکہ دوسرے کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی گئی۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اگر وہاں موجود 43 سالہ مسلمان پھل فروش احمد الاحمد ایک حملہ آور کو روکنے کی کوشش نہ کرتے تو جانی نقصان مزید بڑھ سکتا تھا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد الاحمد حملہ آور سے بندوق چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران انہیں دو گولیاں بھی لگیں، تاہم وہ حملہ آور سے لڑتے رہے۔ احمد الاحمد اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے احمد الاحمد کو بڑی تعداد میں جانیں بچانے پر ہیرو قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ایک منصوبہ بند اور نفرت پر مبنی حملہ تھا، جس کی آسٹریلیا میں کوئی گنجائش نہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر میل لینین نے واقعے کو باضابطہ طور پر دہشت گردی قرار دیا ہے۔

پولیس کمشنر کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا واقعے میں کوئی تیسرا حملہ آور یا سہولت کار بھی شامل تھا۔ انہوں نے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتقام کا نہیں بلکہ قانون کے مطابق کارروائی کا وقت ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور سیاہ لباس میں ملبوس تھے اور ان کے ہاتھوں میں سیمی آٹو میٹک رائفلیں تھیں۔ ایک برطانوی سیاح نے بتایا کہ تقریباً دس منٹ تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں اور ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ ایک اور عینی شاہد کے مطابق فائرنگ کے بعد ساحل پر لاشیں اور زخمی بکھرے ہوئے تھے جبکہ لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک پمپ ایکشن گن بھی برآمد ہوئی ہے۔ آسٹریلیا کے خفیہ ادارے کے سربراہ مائیک برگس نے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حملہ آور پہلے سے سیکیورٹی اداروں کے ریڈار پر تھے یا نہیں، تاہم اس پہلو سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

واقعے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، برطانوی شاہ چارلس، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، ایرانی وزارت خارجہ، اسرائیلی صدر اور وزیر اعظم سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے حملے کی مذمت اور متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی واقعے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
آسٹریلیا کی مسلم تنظیم آسٹریلین نیشنل امام کونسل نے واقعے کو وحشیانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.