حکومت و اپوزیشن میں گرما گرمی، قومی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

0

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن اراکین کے درمیان لفظی گرما گرمی دیکھی گئی، جس کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس پینل آف چیئر علی زاہد کی صدارت میں ہوا۔

وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی آغار فیع اللہ نے شکایت کی کہ اراکین محنت سے سوالات تیار کرتے ہیں مگر انہیں گول مول جوابات ملتے ہیں، اور یوں ایوان میں محض "ٹی اے ڈی اے” بنانے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی ایجوکیشن سروس کے ٹال فری نمبر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر سے جواب طلب کیا۔

وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ لابی میں جاکر ٹال فری نمبر پر بھی کال کی جا سکتی ہے اور آغار فیع اللہ کی تقریر کو سیاسی قرار دیا۔ پینل آف چیئر علی زاہد نے دونوں کو ہدایت کی کہ معاملہ لابی میں حل کریں۔ اپوزیشن نے نقطہ اعتراض مانگا، مگر پینل آف چیئر نے واضح کیا کہ وقفہ سوالات کے دوران نقطہ اعتراض کی اجازت نہیں ہے۔

بعد میں آغار فیع اللہ نے اعتراض کیا کہ "وزیر موجود نہیں، سوالات کے جواب کون دے گا؟” جس پر پینل آف چیئر نے بتایا کہ وزیر موجود ہیں، تاہم آغار فیع اللہ نے کہا کہ وزیر اپنی باتوں میں مصروف ہیں اور چیلنج کیا کہ آئیں اور کوئی حساب کتاب کریں۔

وزیر مملکت ڈاکٹر شذرہ منصب کھرل نے اجلاس میں بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاؤ کے لیے قلیل مدتی منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور پانی جمع کرنے کے ذخائر بنائے جائیں گے۔ دوران اجلاس پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد رکن اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کی، جس کے بعد حکومت اجلاس میں کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔

کورم کی نشاندہی کے بعد پینل آف چیئر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا، جس پر پیپلز پارٹی کے اراکین نے شدید احتجاج کیا۔ اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے بانی پی ٹی آئی کے پوسٹرز بھی لائے۔

اس دوران آصفہ بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "X” پر لکھا کہ سیشن ملتوی کرنے کی ہدایات اس لیے دی گئیں تاکہ اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام "بے نظیر بھٹو ایئرپورٹ” رکھنے سے متعلق ان کا توجہ دلاؤ نوٹس پیش نہ ہو سکے۔

وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا کہ کورم کی نشاندہی معمول کی بات ہے اور اجلاس دوبارہ ایجنڈے کے ساتھ منعقد ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.