ایک شخص کا بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایک شخص اور اس کا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے، عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے یا فوج کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فرد کا جھوٹا بیانیہ بھارت اور افغانستان کے میڈیا میں پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، صرف افغان طالبان رجیم سے ریاستی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے چلائے جا رہے ہیں، بھارتی اور افغان میڈیا انہی بیانات کو بنیاد بنا کر پاک فوج پر حملے کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج سیاست کا حصہ نہیں اور کسی کو فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملوں کا بیانیہ اسی ایک شخص نے دیا، اس کے ٹویٹس بیرونی میڈیا فوراً اٹھا لیتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال 13 ہزار سے زائد آپریشنز میں 1943 دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ 18 لاکھ سے زائد غیر قانونی غیر ملکی واپس بھیجے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سب سے زیادہ ہے لیکن صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین آزادیٔ اظہار کی اجازت دیتا ہے مگر ریاست اور فوج کے خلاف بیانیہ قابلِ قبول نہیں۔ پاک فوج کے جوان ملک کے تحفظ کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں، 9 مئی کا مقدمہ پوری قوم کا مقدمہ ہے۔