قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور

0

اسلام آباد : قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کو بعض ترامیم کے ساتھ دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔

 اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینٹ سے منظور شدہ ترمیم کو فوری زیرِ غور لانے کی تحریک پیش کی۔ تحریک کے حق میں 231 جبکہ مخالفت میں 4 ارکان نے ووٹ دیا۔

بحث و مباحثے کے بعد وزیر قانون نے آئینی ترمیم میں متعدد ترامیم پیش کیں جنہیں ایوان نے دو تہائی اکثریت سے منظور کیا۔ بل کی حتمی منظوری کے وقت 234 ارکان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 4 نے مخالفت کی۔

سنی اتحاد کونسل اور آزاد اپوزیشن ارکان نے ووٹنگ کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دی گئی ہے جو جوڈیشل و آئینی امور کی سماعت کرے گی۔

آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے جو وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تعینات کریں گے۔

چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم کردیا جائے گا۔

ازخود نوٹس (Suo Moto) کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کی اجازت دی گئی ہے۔

آرٹیکل 6، 10، 23، 206، 209، 239 اور 260 سمیت متعدد دفعات میں ترامیم منظور کی گئیں۔

صدر مملکت کو عہدے سے سبکدوشی کے بعد استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم اگر وہ دوبارہ کوئی عوامی عہدہ سنبھالیں گے تو استثنیٰ ختم ہوجائے گا۔

آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی ہیئت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اب اس میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان، دونوں عدالتوں کے ایک ایک سینئر جج، اور دو سینئر ترین ہائی کورٹس کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔

جو چیف جسٹس (سپریم کورٹ یا آئینی عدالت) سینئر ہوگا، وہ کونسل کا سربراہ ہوگا۔

آرٹیکل 175 کے تحت وفاقی آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے ججوں کی مساوی نمائندگی ہوگی۔

ججز کی تقرری کے لیے لازمی ہوگا کہ امیدوار سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا جج یا کم از کم 20 سال کا تجربہ رکھنے والا وکیل ہو۔

وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں زیر التواء آئینی درخواستیں اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کی جائیں گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.