پاکستان بزنس سمٹ کا پشاور میں کامیاب انعقاد

0

پشاور: پاکستان بزنس سمٹ کا انعقاد خیبرپختوانخوا (کے پی کے) کے دارالحکومت پشاور میں کیا گیا۔ "Shaping what’s Next” کے عنوان سے منعقدہ سمٹ میں 600 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔

یہ اہم ایونٹ گورنر خیبر پختونخوا کی سرپرستی میں نٹ شیل گروپ اور البرکہ بینک (پاکستان) لمیٹڈ کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوا، جس کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP)، فیصل بینک لمیٹڈ، نیشنل بینک آف پاکستان، دبئی اسلامک بینک لمیٹڈ، بینک آف خیبر، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)، کارپوریٹ پاکستان گروپ (CPG)، اے سی سی اے پاکستان اور اسپیکٹرو کو ایل ایل سی کا تعاون حاصل تھا۔ سمٹ کا مقصد پاکستان میں اقتصادی، سماجی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے موثر مکالمے کو فروغ دینا اور پالیسی سطح پر ایسی رہنمائی فراہم کرنا تھا جس سے ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔

تقریب کے ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال 38ارب ڈالرز کی ترسیلات ہوئیں جبکہ رواں مالی سال 43 ارب ڈالرز ترسیلات کی توقع ہے۔ پاکستان 2025کے اختتام سے قبل پانڈا بانڈ جاری کرسکتا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے دورے کیے۔ ہم نے چین میں 24 معاہدے کیے، جبکہ امریکا میں بھی مختلف شعبوں میں معاہدے کیے گئے ہیں۔ یہ سب معاہدے سرمایہ کاری کے لیے بہت اہم ہے۔ اب امداد نہیں بلکہ تجارت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ترقی اور ڈویلپمنٹ پروگرام کا بجٹ 4.3 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔ ٹیکس بڑھانے پر کام کررہے ہیں، ٹیکس پالیسی کا فنکشن اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پاس نہیں، ایف بی آر کا کام صرف ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا۔ اگلے سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی کتابی بات نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ 2022 اور حالیہ سیلابی کی تباہ کاری نے معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی قابو کرنا ہے۔ معاشی استحکام کے لیے لوکلائزیشن، برآمدات میں اضافہ اور نجی شعبے کا کردار بہت اہم ہے۔ حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ریگولیٹری میٹریل کی قیمتوں کو کم کیا ہے۔ پرائیویٹائزیشن کے عمل کو حکومتی سطح پر بہتر بنایا جارہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مثبت نتائج مرتب ہوں۔ عالمی بینک کے مطابق اگر ہم نے اپنے وسائل پر صحیح طریقے سے کام کیا تو 2047 تک 3 ٹریلین ڈالرز کی معیشت بن سکتے ہیں۔

قائم مقام صدر و چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کو دنیا میں مقام حاصل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور تعلیم میں مزید ترقی کرنا ہوگی۔ سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان کا ٹیلنٹ ہم نے آگے لے کر چلنا ہے۔ دنیا بھر میں ہنر مند افراد کی ضرورت ہے، اب سادہ بی اے اور ایم اے نہیں چاہیے۔ صرف آئی ٹی کے لیے نہیں بلکہ دیگر شعبوں کے لیے بھی پالیسیاں بنائی جائیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان بزنس سمٹ کرانے پر میں اظفر احسن اور آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ کے پی کے میں تمام بینکوں کو خوش آمدید کہیں گے۔ ملک میں سب سے زیادہ نوجوان خیبر پختونخوا میں ہیں، لیکن فنڈز نہیں ہیں۔ بزنس کمیونٹی اور بینکنگ سیکٹر ہمارے صوبے کی معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ کے سیاحتی مقامات کے مثبت پہلو اجاگر کرنے ضروری ہے۔ ہم معدنی وسائل، گیس اورسب سے سستی ہائیڈل بجلی ملک کو فراہم کررہے ہیں۔ فاٹا اور کے پی کے کو ملایا گیا، جس سے ہمیں 100 ارب ملنا تھا جو 8سال ہونے کے باوجود نہیں ملے۔ افغانستان کے منفی پہلو ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہماری ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ افغانستان سے امن کے متعلق بات چیت کرنا ضروری ہے تاکہ ہمارے صوبے میں استحکام آئے۔

صوبائی وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ کے پی کے کے حوالے سے غلط تاثر کو دور کرنے میں وقت لگا، لیکن آج یہاں غیرملکی گھومنے آرہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو سیاحت کا مرکز بننا چاہیے۔ گزشتہ سال 2 کروڑ سے زائد سیاح آئے۔ حکومت نے چھوٹے ایف ڈی آئی منصوبوں پر سخت معاہدے کیے، جس کا نقصان آج بھگت بھی رہے ہیں۔ اب تک کوئی معیاری اثاثہ جاتی کلاس نہیں بنائی گئی۔ ٹیکس نظام اور پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انڈیکس بلند ہونے کے باوجود نئی لسٹنگز کیوں نہیں آرہیں؟ صرف ماحول کا مسئلہ نہیں، ہمیں اپنی قوتیں پہچاننا ہوں گی۔ پاکستان کی عالمی نمائندگی کے لیے روڈ شوز اور بروکریج ہاؤسز کیوں نہیں ہیں؟

انہوں نے کہا کہ پالیسی میں بہتری اور تسلسل نہ ہونے کے باعث غیرملکی کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا رہی ہے۔ پی اینڈ جی بھی پاکستان چھوڑ رہی ہے۔ ہم نے لوکل انڈسٹری کو پروان نہیں چڑھایا۔کیپٹل فارمیشن نہ ہونے کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج میں کمپنیوں کی لسٹنگ نہیں ہو سکی۔ خیبر پختونخوا میں 15 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرسکتے ہیں، تاہم وفاقی حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔

پرائیویٹائزیشن کمیشن کے چیئرمین محمد علی نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی کرنا ہے تو شفافیت کے ساتھ پرائیویٹائزیشن کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں، اس پر زیادہ دیر تک نہیں چل سکیں گے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے دنیا کا نظریہ بدل دیا ہے۔ تعلیم، کارکردگی اور دیگر شعبے سب سبسڈی کی لائف لائن پر ہیں۔ ہمیں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرائیویٹائزیشن پروگرام پر تیزی سے کام جاری ہے اور دو الیکٹرک وہیکل بنانے والی کمپنیوں سے بات چیت بھی ہو رہی ہے۔ ہم بہت محنت سے کام کرنے والے لوگ ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اقدامات کو زیادہ جامع اور منظم انداز میں ترتیب دیں تاکہ دنیا میں پاکستان کا مثبت تصویر ابھر سکے۔

پشاور اور خیبرپختونخوا کی جاویداں روح کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے خطے کے تین عظیم فرزندوں کو اعزاز سے نوازا گیا۔

ان میں شامل ہیں ممتاز ہارٹ سرجن اور رحمٰن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (RMI) کے بانی پروفیسر ڈاکٹر محمد رحمٰن، انڈس اسپتال نیٹ ورک کے بانی و وژنری رہنما پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان، اور دنیا کے بے مثال اسکوائش لیجنڈ جہانگیر خان شامل ہیں۔

یہ سب جرأت، خدمت اور اعلیٰ کارکردگی کی علامت ہیں جو آج اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ چئیرمین سینیٹ اور گورنر خیبر پختونخواہ نے انہیں اعزاز سے نوازا۔

چیف ایگزیکٹیو آفیسر البرکہ بینک (پاکستان) لمیٹڈ محمد عاطف حنیف نے کہا کہ میں تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو قیمتی وقت نکال کر یہاں آئے۔ نٹ شیل نے پاکستان کا مثبت پہلو دنیا میں اجاگر کیا اور حکومتی اداروں کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ معاشی ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختوانخوا اور گلگت بلتستان میں سیاحت کا بہت پوٹینشل ہے۔ سیاحت کا فروغ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

قبل ازیں خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے بانی اور چیئرمین نٹ شیل گروپ اور سابق وزیر سرمایہ کاری محمد اظفر احسن نے کہا کہ پاکستانی نوجوان قومی ترقی کے ضامن ہیں۔ پشاور کے نوجوانوں کی محنت اور لگن پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ زبوں حالی کا شکار اس صوبے میں بے پناہ وسائل ہیں اور اس کی تعمیری ترقی سے معاشرے کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کاروبار کا اصل پیمانہ ہے۔ دیگر ممالک پاکستان سے زیادہ ایف ڈی آئی حاصل کررہے ہیں۔ ملک میں ایڈہاک ازم کے بجائے مستقل پالیسی ضروری ہے۔ پالیسیوں میں عدم استحکام نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔

صدر اور سی ای او نیشنل بینک آف پاکستان رحمت علی حسنی نے پاکستان کے پہلے ونڈ اور رینوایبل منصوبوں میں بینکوں کے تعاون کا ذکرکرتے ہوئے کہا این بی پی نے پاکستان میں رینیوایبل فنانسنگ کا آغاز کیاہے۔ پائیدار توانائی کی فنانسنگ میں این بی پی کا کلیدی کردار رہے گا۔ چیف ڈیجیٹل آفیسر فیصل بینک لمیٹڈ امین الرحمن نے کہا کہ اے آئی اپنانے سے ورک فورس کی اَپ اسکلنگ اور ریڈینڈنسی کے خدشات جنم لیتے ہیں۔ بزنس لیڈرز کو اپنی ٹیموں کو دوبارہ سکھانے اور اَپ اسکل کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

چیف فنانشل آفیسر بینک آف خیبر اور ممبر ICAPعرفان سلیم اعوان نے کہا کہ عرفان سلیم اعوان نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور انسانی عوامل کام کے مستقبل کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ اے آئی اور ڈیجیٹل ٹولز نے اداروں کے ڈھالنے کے طریقے بدل دیے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور انسانی تنوع میں توازن ہی ٹیلنٹ حاصل کرنے کی کنجی ہے۔جو ادارے دونوں پہلوؤں کو اپنائیں گے وہ مستقبل میں ترقی کریں گے۔

صدر اور سی ای او ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک جہانزیب خان نے کہا کہ ایزی پیسہ کا بنیادی مقصد آسان اور شفاف ڈیجیٹل پیمنٹس ٹرانسفر ہے۔ سی ای او دبئی اسلامک بینک لمیٹڈ محمد علی گلفراز نے کہا کہ پاکستان میں پائیداری کا ماحولیاتی نظام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ گرین فنانس اور کاربن مارکیٹ کے لیے سرمایہ، مانیٹرنگ اور عالمی روابط ضروری ہیں۔

ایم ڈی اور سی ای او فوجی فرٹیلائزرجہانگیر پراچہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس 55 ملین ایکڑ زرعی زمین اور 255 ملین آبادی ہے، لیکن پیداوار کم ہے۔ کم پیداوار کی بڑی وجہ اداروں کا کاشتکاروں سے صرف لین دین کا تعلق ہونا ہے۔ پیداوار بڑھانے اور زرعی ترقی کے لیے کاشتکاروں کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری ضروری ہے۔

پارٹنر اور کوفاؤنڈر اسپیکٹروکو ایل ایل سی، یو ایس اے سجید اسلم نے کہا کہ گرین یعنی سولر انرجی کے صورت میں اسلامک فنانسنگ کررہے ہیں۔ ایکو سسٹم بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ کاشتکاروں کو بلیو اکانومی لانے کے لیے بینکنگ سیکٹر کو مدد کرنا ہوگی۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاؤلینس عمر احسن خان نے کہا کہ پائیداری صرف پیداوار نہیں، ڈیزائن، سپلائی چین اور صارفین کے استعمال پر بھی منحصر ہے۔ معاشی ترقی کے لیے لوکلائزیشن ناگزیر ہے۔

اے سی سی اے گلوبل صدر اور بانی و سی ای او پلانیٹو عالیہ ماجد نے کہا موسمیاتی تبدیلی کے دونوں مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں اور ہمیں دونوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پاکستان میں گرین انرجی پر منتقلی مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہمیں گرین انرجی پر انحصار بڑھانا ہے۔

ائیر چیف مارشل سہیل امان، پاک فضائیہ کے سابق سربراہ اور چیف ایگزیکٹو اسٹریٹجک انگیجمنٹ نٹ شیل گروپ نے اپنے اختتامی کلمات میں سمٹ میں شریک شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے میرٹ پر تمام فیصلے ہونا چاہیے۔پاکستان دفاعی نظام میں ناقابل شکست ہے۔ سب سے پہلے ملک کی سلامتی ہے باقی سب چیزیں بعد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے شعبے میں بہت کام ہوا ہے۔ کے پی کے سے سینٹرل ایشیا میں تجارت کی راہ نکلتی ہے۔30 سال میں ٹیکنالوجی نے نمایاں ترقی کرتی ہے۔5 سال بعد اس میں مزید تبدیلیاں آئیں گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.