احسن اقبال کی ہونان صوبے کے گورنر سے ملاقات،سی پیک فیز ٹو کے نئے شعبوں میں شراکت داری پر تبادلہ خیال
بیجنگ:وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے ہونان صوبے کے گورنر ماو ویمِنگ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعاون کو مزید وسعت دینے اور سی پیک فیز ٹو کے تحت نئے شعبوں میں شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں پروفیسر احسن اقبال نے کہنا تھا کہ بیس سے زائد ممالک کے رہنماؤں کی بی ڈو سمٹ میں شرکت خوش آئند ہے۔ انہوں نے ہونان کے چین کی معیشت میں مرکزی کردار کو قابلِ تعریف قرار دیا اور کہا کہ بی ڈو سسٹم صنعتی ترقی کے لئے جدید معلوماتی نظام فراہم کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان بی ڈو استعمال کرنے والا پہلا غیر ملکی ملک تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور مضبوط دوستی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعاون سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدانوں میں دوستی کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے اور خلا و جدید ٹیکنالوجی کے نئے افق چھو رہا ہے۔
انہوں نےکہا کہ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس نے پاکستان کو توانائی اور انفراسٹرکچر کے مسائل سے نکالا۔ فیز ون میں بنیادی ڈھانچے اور فزیکل منصوبوں پر توجہ دی گئی جبکہ فیز ٹو میں صنعت، جدید زراعت، معدنیات، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جدید زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات اور ریلوے کے شعبوں میں ہونان صوبے سے تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور ہونان صوبہ سی پیک فیز ٹو میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس موقع پر گورنر ماو ویمِنگ نے وفاقی وزیر کا سمٹ میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہونان میں وزیر احسن اقبال کی موجودگی پاک چین دوستی کی عکاس ہے۔ گورنر نے سی پیک فیز ٹو کے لئے ہونان صوبے کے ساتھ مستقل ورکنگ گروپ بنانے کی تجویز کو بھی منظور کر لیا۔