کوئٹہ، نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے اور بلوچستان کی ترقی کے عزم کا اعادہ
کوئٹہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگردی اقدامات، ترقیاتی منصوبوں، گورننس اصلاحات اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعلیٰ بلوچستان ، وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بلوچستان میں سیکیورٹی، انسداد دہشتگردی اقدامات، ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت، ڈیجیٹائزیشن، کیش لیس اکانومی، گورننس میں بہتری اور عوامی فلاح کے مختلف پروگراموں پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے بلوچستان اور ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات پر مسلح افواج خصوصاً چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور پاک افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے بلوچستان کے رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے معدنیات کے تحفظ کے لیے خصوصی سیکیورٹی راہداری قائم کی جائے گی۔ ان کے مطابق اس راہداری میں فرنٹیئر کور کے اضافی ونگز، شاہراہوں پر سیکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ اور سرحدی پوسٹس شامل ہوں گی تاکہ معدنی وسائل سے منسلک قومی منصوبوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل خصوصاً معدنیات سے مالامال ملک ہے اور بلوچستان میں محفوظ ماحول کی فراہمی مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنیوں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان کی جانب سے ضلعی انتظامیہ میں تعیناتیوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ برقرار رکھنے کی کوششوں کو بھی سراہا۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ادارے سرگرم عمل ہیں جبکہ بلوچستان میں نوجوانوں کی فلاح کے لیے یوتھ اسکلز پروگرام سمیت مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق نومبر 2024 سے اب تک صوبے میں پولیو کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ کینسر انسٹیٹیوٹ، ڈائلیسس سینٹر، ٹراما سینٹر اور دیگر صحت منصوبے فعال ہو چکے ہیں اور مزید منصوبوں پر کام جاری ہے۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت 99 فیصد اسکول کھلے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اسی طرح شمسی توانائی کے منصوبوں سے 15 ہزار سے زائد گھرانوں کو فائدہ پہنچا ہے جبکہ اب تک تقریباً 105 ارب روپے کی بچت رپورٹ کی جا چکی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کی جدید تربیت اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے تعلیم، فنی تربیت، روزگار، اسپورٹس، اسکالرشپس اور ڈیجیٹل اسکلز پروگرامز پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے فیکلٹی اور زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، عملی تیاری اور قربانیوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مادر وطن کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو سلام پیش کیا۔
وزیراعظم نے “معرکۂ حق” کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ طرز عمل اپنایا جسے عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ “آپریشن غضبُ للحق” پوری قوت سے جاری ہے تاکہ افغان طالبان سے وابستہ دہشتگرد پراکسیز کے خلاف معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں و سہولت کاروں کو سخت سزا دی جا سکے۔ وزیراعظم نے جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے دوست ممالک کے زیر تربیت افسران کی موجودگی کو سراہتے ہوئے عسکری سفارتکاری اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا۔