صدر شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ کی اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال
بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پھنگ سے اہم ملاقات کی۔ امریکی صدر کا عظیم عوامی ہال میں پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ دنیا اس وقت ایسی غیرمعمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے جو گزشتہ ایک صدی میں کبھی نہیں دیکھی گئیں، جبکہ بین الاقوامی صورتحال مسلسل غیر یقینی اور ہنگامہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نظام ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں چین اور امریکہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ “تھیوسیڈائڈز ٹریپ” سے بچتے ہوئے بڑی طاقتوں کے تعلقات کا نیا ماڈل قائم کر سکتے ہیں یا نہیں۔

صدر شی نے زور دیا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے، دنیا میں امن برقرار رکھنے، اقتصادی استحکام اور انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے چین اور امریکہ کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے مقابلے میں مشترکہ مفادات کہیں زیادہ ہیں اور ایک ملک کی کامیابی دوسرے کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین اور امریکہ کو حریف کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے تاکہ دونوں ممالک مشترکہ ترقی اور خوشحالی حاصل کر سکیں۔ صدر شی نے امید ظاہر کی کہ دونوں رہنما دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے امور پر تعمیری گفتگو کریں گے اور چین امریکہ تعلقات کے لیے ایک نئی سمت متعین کریں گے۔

چینی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ سال 2026 چین اور امریکہ کے تعلقات میں ایک تاریخی اور یادگار سال ثابت ہوگا، جو دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان تعاون کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے تجارت، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔